خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 86

خطبات طاہر جلد ۶ 98 86 خطبہ جمعہ ۶ فروری ۱۹۸۷ء تو یہ تصور نہ باندھ لیں کہ یہ عمارت کوئی غیر معمولی قیمتی عمارت ہو، عمارت ضرورت کو پورا کرنے والی ہونی چاہئے اور توفیق کے مطابق ہونی چاہئے اس کے بعد اس کو جس حد تک بھی ممکن ہو اگر انسان کا ذہن حسین تخیل رکھتا ہو تو غربت میں بھی وہ حسن پیدا کر لیتا ہے۔بہت سے ممالک ہیں ایک ہی معیار کے ہیں اقتصادی لحاظ سے مگر بعض ممالک کے لوگ حسین تخیل رکھتے ہیں وہ انہیں ذرائع سے ایک خوبصورت چیز پیش کرتے ہیں اور بعض ممالک ان سے بڑھ کر ذرائع رکھنے کے باوجود نہایت بھڈے منظر کی عمارتیں بناتے ہیں، نہایت ان کا رہن سہن بھڑ ا ہے اور ان میں ایسا تخیل ہی نہیں کہ جو ان کے عمل کو خوبصورت کر کے دکھائے۔تو جماعت احمدیہ کا تخیل بھی حسین ہونا چاہئے غربت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غربت کے نتیجے میں بد ہی پیدا ہو بھدی چیز بنائی جائے۔اس لئے ان دونوں شرطوں کو ٹوظ رکھ کے عمارتیں بنی چاہئیں کہ غربت میں حسن پیدا کریں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بعض جو نئے محاورے ایجاد کئے ان میں ایک یہ بھی بڑا خوبصورت محاورہ تھا کہ ربوہ کو ایک غریب دلہن کی طرح سجاؤ۔دلہن تو بہر حال بجتی ہے چاہے غریب ہو چاہے امیر ہو اس لئے سجاوٹ آپ نے بہر حال کرنی ہے۔مگر غریب ہیں تو غریب دلہن کی طرح تھیں اور امیر ہیں تو امیر دلہن کی طرح سجیں اور سجائیں۔دوسرا ایک پہلو جیسا کہ میں نے بیان کیا اس میں مختلف طاقتوں کی ضرورت ہے مختلف صلاحیتوں کی ضرورت ہے اور دوستوں کو اپنے کوائف مکمل طور پر جو شوق رکھتے ہیں کہ ان کو بھر پور حصہ ملنے کا موقع ملے ان کو چاہئے کہ اپنے کوائف مکمل اس طرح بھیجیں جس طرح نوکریوں کے لئے بھیجا کرتے ہیں اور کمیٹیوں کے سپرد یا امیر کے سپر د کریں کہ یہ یہ ہم کر سکتے ہیں اور اس طرف ہمارا ذہن کا بھی رجحان ہے اور اس قسم کا وقت ہم آسانی سے دے سکیں گے اور کتنا زیادہ سے زیادہ دے سکیں گے اس کی بھی تعیین کی جائے یعنی کس قسم کے وقت سے مراد یہ ہے کہ رات کا وقت ، صبح کا وقت ، دن کا وقت، ہمہ وقت جس نوعیت کی بھی کسی کو توفیق ہو وہ واضح کرے اور پھر مدت معین کر دے۔تو اس طرح ہمارے پاس مجموعی طور پر کام کرنے والے جتنے ہاتھ اور جتنے گھنٹے اور جتنے دماغ اور جتنی صلاحیتیں ہوں گی وہ یکجائی شکل میں جب کمیٹی کو نظر آئیں گی تو ان کا منصوبہ حقیقی بنے گا پھر اور ان صلاحیتوں کے نتیجے میں ان کے ذہن اور ان کی سوچ میں بھی ایک چمک پیدا ہو گی بعض چیزوں کی