خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 88
خطبات طاہر جلد ۶ 88 88 خطبہ جمعہ ۶ / فروری ۱۹۸۷ء مربیوں اور مبلغوں کے علاوہ جب کبھی کوئی داعی الی اللہ اپنا تبلیغ کا پھل پیش کیا کرتا تھا تو بہت نمایاں دکھائی دیتا تھا۔میں تمہیں چالیس چالیس ایسے دوست شروع میں پیدا ہونے شروع ہوئے جب ہم نے انصاراللہ اور خدام الاحمدیہ میں محنتیں کیں اس معاملے میں اور بہت تھوڑے نتیجے تھے لیکن اس کے باوجود بہت دکھائی دیتے تھے۔اب ایک ایسا وقت آیا ہے کہ بعض دائمین الی اللہ کے ذریعے بیسیوں کی تعداد میں ایک ایک آدمی کے ذریعے بیعتیں ہو رہی ہیں نئے گاؤں بن رہے ہیں۔افریقہ سے جور پورٹیں ملتی ہیں ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اب داعیین الی اللہ کی کوششوں کا زیادہ دخل ہو گیا ہے بنسبت براہ راست مبلغین کی کوششوں کے اور اسی طرح ہونا بھی چاہئے۔مبلغ کا کام تو بالعموم تعلیم و تربیت اور تبلیغ کے معاملے میں جماعت کو مستعد کرنا ہے۔براہِ راست جتنا وقت ملے وہ بے شک تبلیغ کرے لیکن مبلغ تیار کرنا اس کا کام ہے اور اگر وہ یہ سمجھے کہ میں نے اگر اپنے نام ڈالے دس یا ہیں آدمی تو میرا وقار بڑھے گا اور اگر میں نے یہ لکھ دیا کہ دوسروں نے بنائے ہیں تو شاید میرا وقار کم ہوا گر کوئی ایسا سوچتا ہے تو بہت ہی بے وقوف انسان ہے۔مبلغ تو سب اجتماعی کوششوں کے پھل کا ذمہ دار ہے اور اس کا ثواب اس کو ملے گا اور مرکز کی نظر میں بھی وہ مبلغ زیادہ کامیاب ہے جس کے ماتحت عام احباب جماعت زیادہ مستعدی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اس کی توفیق کے ساتھ زیادہ کامیاب تبلیغ کر رہے ہیں۔اس لئے کریڈٹ کا جہاں تک تعلق ہے وہ سارا مبلغ ہی کا یا مبلغوں کا ہی ہے یعنی سارے سے مراد میری یہ ہے کہ اگر ان کو یہ فکر ہو کہ ہمارا کریڈٹ کم ہو جائے گا تو اس فکر کو مٹادیں دماغ سے۔آنحضرت ﷺ نے جو قانون ہمیں بتایا ہے اور جو خدا نے آپ کو بتایا وہ تو بالکل دنیا کے قانون سے مختلف ہے۔دنیا میں تو اگر ایک سے کریڈٹ لے کے دوسرے کو دے دیا جائے تو پہلے کی جھولی خالی ہو جاتی ہے۔دوسرے سے لے کے تیسرے کو دے دیا جائے تو دوسرے کی جھولی خالی ہو جاتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے جو قانون خدا سے علم پا کر جاری فرمایا اور وہی قانون جماعت میں جاری ہے۔وہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی نیک بات کرے اور اس کا نمونہ دیکھ کر یا اس کی بات سن کر کوئی دوسرا بھی ویسا نیک کام کرے تو اس کو بھی اتنی ہی جزا ملے گی ، وہ خدا کے نزدیک اسی طرح اس کا کریڈٹ پانے والا ہو گا جس طرح وہ کام کرنے والا ہے اور پھر فرمایا کہ اس کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں آئے