خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 876
خطبات طاہر جلد ۶ 876 خطبہ جمعہ ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء عمومی طور پر تو جیسا کہ خدا کا وعدہ ہے جماعت نے بہر حال ترقی کرنی ہے اور کرتی ہے اور یہ جو عمومی وعدہ ہے یہ پوٹینشل (Potential) کے طور پر ہر جماعت کے مقدر میں ہے ایک تو عمومی ساری جماعت کا جائزہ ہے ایک ہے مقامی جماعتوں کا یا اضلاع کی جماعتوں کا جائزہ ان دونوں جائزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں یہ بات آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ جہاں تک خدا تعالیٰ کی ترقی کا وعدہ ہے وہ تو سارے پاکستان کی جماعت سے جس طرح باقی دنیا کی جماعتوں سے ہے ایک عمومی وعدہ ہے۔اضلاع کی جماعتوں سے بھی وعدہ ہے، شہروں اور قصبات اور دیہات کی جماعتوں سے بھی وعدہ ہے لیکن یہ وعدہ ایک پوٹینشل کی حیثیت رکھتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی تقدیر تیار ہے مدد کے لئے وہ ضرور آگے بڑھائے گی اگر تم لوگ اس سے استفادہ کرو گے۔بالعموم استفادے کی طاقت چونکہ جماعت میں نہ استفادہ کرنے کی طاقت کے مقابل پر غالب رہتی ہے اس لئے عمومی طور پر آپ جماعت کو ہمیشہ آگے بڑھتے دیکھتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جتنا بڑھ سکتی تھی اتنا بڑھی ہے بلکہ بعض جگہ جہاں خدا کی نعمتوں کی تکذیب کی جائے یعنی ان معنوں میں کہ ان نعمتوں سے فائدہ نہ اٹھایا جائے ، نظام کمزوری دکھائے ، مقامی عہدیداران ذمہ داریاں ادا نہ کریں تو بعض جگہ آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے بھی قدم چلے جاتے ہیں لیکن یہ پیچھے جانے والے قدم چند ہیں۔قافلے کے قدم بحیثیت مجموعی آگے ہی بڑھتے ہیں اور جہاں قدم پیچھے جائیں وہاں لازم ہے کہ بعض انسانوں کا قصور ہے خدا کی تقدیر کا کوئی قصور نہیں۔اس وعدے کی عمومی شکل میں کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن کچھ جگہ جماعتوں نے توجہ دی ہے کچھ جگہ نہیں دی۔چنانچہ سندھ کے بعض اضلاع میں مثلاً سکھر، خیر پور وغیرہ جہاں سخت حالات کے پیش نظر ایک امیر کو خاص طور پر مقرر کیا گیا تھا ایک نو جوان امیر کو وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حالات اسی طرح بد ہیں اور خطر ناک ہیں اور مشکلات بھی ہر قسم کی موجود ہیں اور کئی لوگوں کو علاقہ بھی چھوڑ نا پڑا لیکن وقف جدید کے چندے کا موازنہ بتا رہا ہے کہ ان میں نمایاں آگے کی طرف قدم ہے اور بعض دوسرے اضلاع ہیں جہاں امن کے حالات ہیں اور وہ خدا کے فضل سے، الا ماشاءاللہ ایک دو جگہ ابتلا کی حالتیں پیدا ہوئی ہیں مگر خدا تعالیٰ کے دنیاوی فضل بھی بہت زیادہ ہیں نسبتاً وہاں قدم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے چلا گیا اور تھر پارکر اور سانگھڑ وغیرہ یہ علاقے جو ہیں ان کی امارتوں کو اور ان کے عہد یداروں کو