خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 856
خطبات طاہر جلد ۶ 856 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۷ء خطرہ تھا مثلاً وہ بچہ مر جائے، جس خاوند کی بیماری کے تفکرات تھے کہ کیا بنے گا کہ خاوند فوت ہو جاتا ہے، وہ مقدمہ کسی زمین کا جس کے لئے انسان پریشان تھا کہ اگر میں ہار گیا تو میری زمین کا کیا بنے گا، میرے بچوں کا کیا بنے گا؟ وہ مقدمہ ہار جاتا ہے۔سو قسم کے ایسے تفکرات ہیں جو روز مرہ انسان کو لاحق ہوتے ہیں اور یہ تفکرات پھر عملاً اس کے سامنے وہ خطرہ بن کے ظاہر ہو جاتے ہیں جس خطرے کے پیش نظر بے چین تھا۔اس وقت یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنی ھوی کو اپنا معبود بنایا تھا کہ نہیں بنایا ؟ اگر اس کے دل کی تمنا اس کا معبود بن چکی تھی تو ایسے ابتلاء کے وقت پھر وہ خدا تعالیٰ سے غافل ہو جاتا ہے بعض دفعہ خدا کے اوپر زبان کھولنے لگ جاتا ہے اور باتیں کرتا ہے بڑی بڑی کہ پہخدا کون ہوتا تھا میر اسکھ چھینے والا ؟ خدا اپنے آپ کو بڑا رحمان اور رحیم کہتا ہے اس کو کیا تکلیف تھی اگر میرا بچہ نہ مرتا؟ میں تو اتنا رویا میں نے تو اتنی عبادت کی لیکن وہ بچہ میرا پیارا اس نے چھین لیا، خدا کا کیا جاتا تھا اگر وہ میری گریہ وزاری کوسن لیتا اور میں زمین کا مقدمہ جیت لیتا۔یہ سارے تصورات اس کے دل میں ابھرتے ہیں اور ان کے نتیجے میں پھر وہ ان کی رو میں بہ بھی جاتا ہے۔ایسا شخص جو اس امتحان میں اس حد تک نا کام ہو جاتا ہے کہ تفکرات کی رو میں بہہ جاتا ہے وہ شخص وہ ہے جس کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ ہم نے اپنے علم کے مطابق اس کے دل پر مہر لگا دی۔کچھ لوگ وہ ہیں جو استغفار بھی کرتے ہیں دل سے بد خیالات اٹھتے ہیں لیکن تو بہ کرتے ہیں واپس آجاتے ہیں وہ اس شرک سے رفتہ رفتہ بچا بھی لئے جاتے ہیں لیکن بسا اوقات انسان ایک گستاخی کے بعد دوسری گستاخی میں مبتلا ہونے لگتے ہیں، پہلے قدم پہ خدا کا باغی نہیں بنتا پھر دوسرے قدم پر باغی بن جاتا ہے یا تیسرے قدم پر باغی بن جاتا ہے اور یہ رخ اس کو بالآخر ہلا کت تک پہنچا دیتا ہے۔کچھ دوسرے خدا کے بندے ہیں ان کو بھی ابتلا آتے ہیں ان کی بھی عزیز چیزیں ضائع ہوتی ہیں ان کے بھی پیارے ان سے جدا کئے جاتے ہیں لیکن ان کی زبان سے ایسے کلمات نہیں نکلتے جو ثابت کریں کہ ان کا نفس خدا کے مقابل پر ایک خدا تھا۔چنانچہ ان کی آواز یہی ہوتی ہے کہ:۔بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر (درین صفحه ۱۰۰)