خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 857 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 857

خطبات طاہر جلد ۶ 857 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۷ء إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ (البقره: ۱۵۷) اس کا یہ ترجمہ ہے دراصل۔چیزیں جو ہاتھ سے جاتی ہیں وہ خدا کی طرف لوٹتی ہیں یعنی خدا نے لے لیں۔عام محاورے میں ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا کو پیارا ہو گیا خدا نے لے لی یا بعض لوگ گستاخی سے کہتے ہیں خدا نے ہم سے یہ چیز چھین لی۔إِلَيْهِ رجِعُوْنَ کا یہ ترجمہ ہے کہ اس کی طرف ہر چیز جاتی ہے۔سب چیزیں جو ہلاک ہو جاتی ہیں ہر چیز جو کھوئی جاتی ہے اپنی ذات میں کوئی چیز بھی کھوئی نہیں جاتی کوئی چیز بھی ہلاک نہیں ہوتی دراصل وہ اپنے مرجع کی طرف لوٹتی ہیں۔چنانچہ اس کائنات میں کوئی چیز بھی ضائع نہیں ہو رہی دراصل۔تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور ہر تبدیلی اس کے منبع اور مرجع کی طرف لوٹنے کا نام ہے۔اِنَّا لِلہ نے ایک عجیب سبق بتادیا کہ جس کی طرف لوٹ رہی ہیں وہ تو ہمارا ہے، اس سے تو ہم سب قریب ہیں اس لئے اس چیز کے ضائع ہونے کا وہ غم ہو ہی نہیں سکتا جو خدا کا ہوا اسے وہ غم نہیں ہوسکتا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ فرمایا:۔بلانے والا سے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جان فدا کر یہ دراصل انا اللہ کا ترجمہ تھا۔یہ چیز ہماری چیز ہوگی لیکن ہم کس کے ہیں ہم تو اللہ کے ہیں اس لئے جس کے ہم ہیں اس کی طرف اگر چیز لوٹتی ہے تو ہم جزع فزع کرنے والے کون ہیں۔اس لئے بچانے کی حد تک کوشش اس سے پیار کے اظہار کے طور پر بے چین بھی ہو جانا یہ طبعی عوامل ہیں ان کو شرک نہیں کہا جاتا لیکن اپنے نفس کی خواہش کا غلام بن جانا اور اس کے تابع ہو جانا، اس سے مغلوب ہو جانا یہ شرک ہے۔اس کے علاوہ جب آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کو کسی چیز کی تمنا بھڑک اٹھتی ہے غیر معمولی طور پر زیادہ ہو جاتی ہے تو زندگی کے خیالات پر قبضہ کرنے لگتی ہے یہاں تک کہ بسا اوقات عبادت میں بھی داخل ہو جاتی ہے۔آپ خدا کی عبادت کے لئے کھڑے ہیں اور جس طرح تفکرات بار بارگھیرتے ہیں آپ کو اس طرح آپ کے دل کی وہ تمنا جس سے آپ کو پیار ہے بار بار دل میں ظاہر ہوتی ہے اور بار بار آپ کی توجہ خدا سے ہٹا کر اس کی جگہ لے لیتی ہے۔اب یہ شرک عمد تو قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اگر آپ اس حالت سے غافل ہو جائیں اور اسے معمولی بیماری سمجھیں یا توجہ ہی نہ کریں اس بات کی