خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 785
خطبات طاہر جلد ۶ 785 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء اچھے پھل ہیں جو تیار ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی جھولی میں آنے والے ہیں وہ اس سے باہر جانہیں سکتے کیونکہ ملاقاتوں کے دوران بھی اور عمومی سوال و جواب کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں امریکن عوام کے دل میں سعادت ابھی تک زندہ ہے۔مادہ پرستی کے باوجود، باوجود اس کے کہ وہ ایک ایسے نظام کے غلام ہیں جس کے چنگل میں پھنسے ہوئے جدھر وہ زنجیروں میں باندھ کر لے جا رہا ہے اس طرف چلے جارہے ہیں لیکن ان کے دل میں کچھ سچائی کی محبت موجود ہے ابھی تک اور آزادی کی محبت بھی موجود ہے۔چاہتے بھی ہیں کہ اس قسم کی مصیبتوں سے ان کو نجات ملے۔اپنے معاشرے کی بدیوں کا احساس بھی ان کے دل میں پیدا ہو چکا ہے۔اس لئے خدا کے فضل سے بے حد مواقع موجود ہیں۔ان واقعات کا جو تذکرہ ہے وہ تو بہت ہی لمبا ہو جائے گا میں نے نمونیہ ایک دو باتیں آپ کے سامنے اس لئے رکھی ہیں تا کہ دو نتائج کی طرف آپ کو توجہ دلاؤں۔امریکہ کے سفر کے دوران جہاں میں نے یہ محسوس کیا کہ کثرت سے لوگوں کے دلوں میں اسلام کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے وہاں یہ بھی محسوس کیا جماعت کی اکثریت اس صلاحیت سے استفادہ نہیں کر رہی اور کم و بیش یہی صورت یورپ کی جماعتوں پر بھی اطلاق پاتی ہے، انگلستان کی جماعت پر بھی اطلاق پاتی ہے۔گنتی کے چند ایسے احباب ہیں جو ایک مشن کے طور پر دعوت الی اللہ کو اپنا شیوہ اور اپنا وطیرہ بنالیں ، اپنی زندگی کا مقصد بنالیں ، عادت میں داخل کر لیں اور جہاں جہاں ایسے دوست ہیں ان کے بہت ہی نیک نتیجے اللہ تعالیٰ ظاہر فرماتا ہے۔چنانچہ جو مجالس اور کثرت کے ساتھ ایسی مجالس تھیں یعنی ان کا تو شمار اس وقت میں کر ہی نہیں سکتا کیونکہ صبح سے لے کر رات تک مختلف پروگرام ہی چل رہے تھے مسلسل۔ان میں میں نے یہ اندازہ لگایا کہ صرف چند احمدیوں کی کوششوں کے نتیجے میں اس کثرت سے لوگوں نے دلچسپی لی ہے۔شکاگو میں مثلا کہ جس مجلس میں صرف غیر مسلم مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا اس میں تقریباً ایک سومر داور ساٹھ عورتیں تھیں اور صرف چند گنتی کے احمدیوں کی کوششوں کے نتیجے میں وہ سب آئے تھے۔چار یا پانچ سے زیادہ وہ لوگ نہیں ہیں جن کو دعوت الی اللہ کا چسکا ہے اور بعض تو ایسے تھے جن کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ کم سے کم ایک تہائی مدعوئین ان کے ذاتی تعلق کی وجہ سے آئے ہوئے تھے اور اسی طرح جیسا کہ میں نے پورٹ لینڈ کا واقعہ بیان