خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 784 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 784

خطبات طاہر جلد ۶ 784 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء ساتھ گلے مل مل کے روتی تھی کہ الحمد اللہ ! آج میری قسمت جاگ گئی آج مجھے خدا نے یہ دن دکھایا اور بے انتہا خوشی کے جذبات اور آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی ان کی۔تو یہ ایسے پاکیزہ پھل خدا جو عطا فرماتا ہے اس کے بے انتہا مواقع موجود ہیں اور ایک جگہ نہیں کئی جگہ ایسے واقعات ہوئے کہ ایک مجلس کے بعد ہی شامل ہونے والوں میں سے کسی نے اظہار کیا کہ ہم بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ایک ہندو نے بھی بیعت کی خدا کے فضل سے ایک اور جگہ شکاگو میں بھی ایک سفید فام خاتون نے بیعت کی اور ایک اور دلچسپ واقعہ وہاں یہ ہوا کہ چونکہ واشنگٹن میں ایسے آثار ظاہر ہوئے تھے کہ جس سے معلوم ہوتا تھا کہ مجھ پر حملے کی ایک سازش تیار کی گئی ہے اس لئے اگرچہ پہلے بھی جماعت کی طرف سے بہت اچھے انتظامات تھے اور امیر صاحب یونائیٹڈ سٹیٹس (United States) اور نائب امیر دونوں نے مل کے سیکیورٹی کی طرف بڑی توجہ دی تھی لیکن اس واقعہ کے بعد وہاں شکاگو کی جماعت نے یہ فیصلہ کیا کہ باقاعدہ سیکیورٹی کی جو ایجنسیز (Agencies) ہیں ان کو بھی حفاظت کے لئے کرائے پر لینا چاہئے اور جو بھی خرچ ہو لیکن بہر حال اس قسم کے ہم کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ دوبارہ ایسی شرارت کے متعلق کوئی سوچ سکے۔چنانچہ وہاں کی ایک تجربہ کارسیکیورٹی کی ایجنسی جس کے افسر پولیس کے ایک پرانے تجربہ کار افسر تھے ان کو مقر رکیا ہوا تھا اور چار دن کا دورہ تھا شکا گوگا۔چلنے سے ایک رات پہلے وہ پہنچے مسجد میں انہوں نے کہا کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں آپ مجھے سیکیورٹی افسر کی طور پر دیکھ رہے تھے کہ گویا میں ہوں یا نہ ہوں میں اپنے کام میں لگا ہوا ہوں لیکن میں اس نظر سے دیکھ رہا تھا کہ یہ کیا باتیں ہیں اور واقعہ اس طرف سچائی ہے کہ نہیں اور دو دن کے اندراندر میرے دل کی حالت بدل گئی ہے اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جماعت احمد یہ جس اسلام کو پیش کر رہی ہے وہی سچا اسلام ہے اور یہ اسلام ایسا نہیں جس سے میں باہر رہ سکوں۔اس لئے مجھے شامل کیا جائے اور پھر اسی رات کو وہ ہمارے ساتھ نماز عشاء میں بھی شامل ہوئے اور اللہ کے فضل سے بڑی جلدی جلدی پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہوئی ہم نے لوگوں میں دیکھیں اور بہت سے نیک اثرات ہیں جو انشاء اللہ لمبے عرصے تک ایک رحمت کے سائے کے طور پر جماعت امریکہ پر رہیں گے اور میں امید رکھتا ہوں کہ جن لوگوں سے واسطے پڑے ہیں اور تعلقات وسیع ہوئے ہیں ان لوگوں میں جماعت بھی اپنی دلچسپی کو جاری رکھے گی اور ان میں بہت سے انشاء اللہ تعالیٰ