خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 786 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 786

خطبات طاہر جلد ۶ 786 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء کیا ہے صرف چار خاندان ہیں اور اس کثرت کے ساتھ ان کا نیک اثر تھا چونکہ اللہ کے فضل۔چاروں خاندان کے سر براہ ہی جماعت سے محبت رکھنے والے اور تعلق رکھنے والے ہیں۔تو پوٹینشل (Potential) یعنی جو امکانات موجود ہیں جماعت کے اندر طاقت کے وہ اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ان ساروں کو استعمال کیا جائے تو باوجود اس کے کہ امریکہ میں جماعت بہت تھوڑی ہے پوٹینشل کے لحاظ سے بہت عظیم قوت ہے اور بہت بڑے بڑے انقلابات پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور جو لوگ داعی الی اللہ نہیں بنے ان کو میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی رحمت لوگوں کو اسلام کے قریب لا رہی ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ لوگ اسلام سے متنفر ہو رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ خدا کی رحمت اسلام کے قریب لا رہی ہے کیونکہ جب یہ Parallax پیدا ہو جائے ایک فرضی بات میں اور ایک حقیقت میں بعد پیدا ہو جائے تو جب حقیقت دکھائی دیتی ہے تو اس وقت انسان کو حقیقت سے عام حالات کی نسبت سے زیادہ دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔مراد میری یہ ہے کہ ایک فرضی تصویر ہوتی ہے اور ایک حقیقی تصویر اگر فرضی تصویر بدصورت ہو جائے اگر فرضی تصویر میں نہایت ہی مکروہ نقوش پیدا کئے گئے ہوں اور حقیقی تصویر۔خوبصورت ہو تو جب بھی ایسا شخص جو فرضی تصویر کے نتیجے میں کسی تصور سے نفرت کر رہا ہے حقیقی تصویر کے نقش دیکھتا ہے تو عام حالات سے زیادہ اس میں دلچسپی لیتا ہے عام حالات سے زیادہ رد عمل کے طور پر اس کے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے اور مذہب کی دنیا میں ہمیشہ یہی ہوتا رہا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ماہ کے زمانے میں بھی یہی کرشمے آپ کو دکھائی دیتے ہیں۔آج ایک شخص شدید نفرت شکار ہے کیونکہ اس نے ایک فرضی تصویر حضور اکرم ﷺ کی دیکھی جو اسے دکھائی گئی تھی اور وہ قابل نفرت تصویر بھی۔جب حقیقی حسن کو دیکھا تو عام حالات میں بھی وہ حسن شیفتہ بنانے والا حسن تھا لیکن اس نے سفر کیا ہے اس حسن کی طرف اس فرضی تصویر سے اور اس نے زیادہ صلى الله فاصلہ طے کیا ہے آپ کی طرف آنے میں اور زیادہ شدید محبت کے ساتھ اس نے حضور اکرم ہے سے عشق کیا ہے کیونکہ اس کے دل میں یہ تاثر بھی تھا کہ پہلے میں اس پیارے وجود سے نفرت کیا کرتا تھا۔اس کا ایک نفسیاتی رد عمل تھا جس نے بہت زیادہ قوت کے ساتھ اس نے حضور اکرم ﷺ کی طرف اس کو مائل کیا۔