خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 710 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 710

خطبات طاہر جلد ۶ 710 خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۷ء ہی اٹھا ہے اور اس سال بھی ترقی کی ہی طرف اٹھا ہے اور ہر پہلو سے ترقی کی طرف اٹھا ہے۔وعدوں کے لحاظ سے بھی سال زیر تبصرہ پچھلے سب سالوں سے آگے ہے اور نمایاں اضافہ ہے۔وصولی کی رفتار کے لحاظ سے بھی سال زیر تبصرہ پچھلے سب سالوں سے آگے ہے اور نمایاں اضافہ ہے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مجاہدین تحریک جدید کے لحاظ سے بھی یہ سال گزشتہ سب سالوں سے بڑھ کر ہے اور نمایاں اضافہ ہے۔مجاہدین کی تعداد کا جہاں تک تعلق ہے سابقہ تعداد 66545 تھی اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے 70170 تک یہ تعداد پہنچ چکی ہے لیکن اسی میں یہ صرف پاکستان کی تعداد ہے بیرون پاکستان کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔تفصیلی طور پر جماعتوں کا ذکر کرنا یہاں مشکل ہوگا کیونکہ بہت زیادہ تعداد ہے جماعتوں کی جن کا تفصیلی موازنے کا وقت نہیں ہے اگر چہ تحریک جدید نے وہ رپورٹ مجھے بھجوا دی ہے لیکن عمومی طور پر دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہر دفتر میں وعدوں میں بھی اضافہ ہے اور وصولی میں بھی اضافہ ہے۔جب میں دفتر کہتا ہوں تو شاید آپ میں سے بہت سے نوجوان جن کو پاکستان چھوڑے مدت گزرگئی اور جن تک بعض وجوہات کی وجہ سے خطبات با قاعدہ نہیں پہنچتے شاید وہ نہ سمجھ سکیں دفتر سے کیا مراد ہے۔اس لئے پہلے میں مختصر أدفتر کے لفظ کی اصطلاح کا تعارف کرواتا ہوں۔دفتر سے مراد ہے جس وقت بھی تحریک جدید کا آغاز ہوا تھا اس سال جولوگ وہ خوش نصیب جو اس تحریک میں شامل ہوئے تھے ان کی جتنی تعداد تھی وہ ایک لمبے عرصے تک ایک دفتر کے سپر د ر ہے یعنی تحریک جدید کا ایک دفتر ان کے اندراجات کا ذمہ دار تھا، ان کے ریکارڈ کا ان کو یاد دہانیاں کرانے کا اور ان کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے ہر قسم کی کوششیں کرنے کا ذمہ دار تھا۔اُس زمانے میں حضرت مصلح موعود کی تحریک پر تقریبا پانچ ہزار مجاہدین تحریک جدید کے جنہوں نے حصہ لیا اور تمام دنیا میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نئے مشن اور نئی مساجد بنانے کی تمام تر ذمہ داری ان پانچ ہزار قربانی کرنے والوں پر تھی۔اگر چہ وہ زمانہ جماعت پر بہت غربت کا تھا لیکن ان پانچ ہزار نے اپنی آمد کی نسبت سے جو حیرت انگیز قربانی کی ہے وہ ایسی ہے کہ ہمیشہ تاریخ احمدیت میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔بہت ہی غریب لوگوں نے جن کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں آتی تھی اپنے پیٹ کاٹ کر، اپنے بیوی بچوں کی قربانی دے کر ان تحریکات میں حصہ لیا اور جب آپ