خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 711
خطبات طاہر جلد ۶ 711 خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۷ء دیکھیں کہ انہوں نے کیا دیا تو بظاہر وہ ایک بہت ہی معمولی رقم نظر آتی ہے جو کہ ایک غریب کی قربانی اس کی توفیق کے مناسبت سے ہوا کرتی ہے۔عورتوں نے بھی حصہ لیا۔بچوں نے بھی حصہ لیا ایک بہت ہی لمبی داستان ہے جو دردناک بھی ہے اور قابل فخر بھی کیونکہ قربانی کی تاریخ جتنی زیادہ درد ناک ہو اتنی زیادہ قابل فخر ہوا کرتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ لوگ ایسے ہیں جن کو دفتر اول کے طور پر یاد کیا جاتا ہے ہمیشہ تاریخ میں ہر دوسرے دفتر پر ان کو ایک فوقیت رہے گی اور ایک سبقت رہے گی۔دوسرا دفتر دس سال کے بعد قائم کیا گیا اور حضرت مصلح موعود نے اس غرض سے قائم کیا کہ پہلے لوگ اس عرصے میں ایک نئی نسل پیدا کر چکے ہیں اور یہ نئی نسل اور اس پہلی نسلوں سے بھی کچھ جوان ہو کر اس قابل ہوئے کہ انہوں نے کمانا شروع کر دیا ہوگا تو پہلوؤں کو بھی الگ امتیاز دینے کی خاطر بھی اور نئے نوجوانوں کو دوبارہ موقع دینے کی خاطر ایک نئے دفتر کا آغاز کیا گیا جس کو آج 45 واں سال گزر رہا ہے۔پھر آج سے 23 سال قبل حضرت خلیفقہ اسمع الاسف نے تیسرے دفتر کا آغاز کیا جس کو آج 23 سال گزر چکے ہیں اور وہ نسلیں جو دوسرے دفتر سے تیسرے دفتر تک یعنی تقریباً 20 سال کے عرصے میں بڑی ہوئی تھیں ان کو موقع ملا کہ وہ بھی جہاں تک ممکن ہو دین کی خاطر قربانی کے مظاہرے کریں اور سب سے آخر پر دو سال قبل اللہ تعالیٰ نے مجھے تو فیق عطا فرمائی کہ دفتر چهارم کا آغاز کروں گویا 21 سال کے بعد۔اس پہلو سے اس وقت چار دفاتر ہیں جن کا تعلق ان متعلقہ عرصے میں بڑے ہونے والوں اور نئے شامل ہونے والوں کے ساتھ ہے جو سنگہائے میل کے درمیان پیدا ہوئے یا بڑے ہوئے۔اس پہلو سے جب میں کہتا ہوں کہ چاروں دفتر خدا تعالیٰ کے فضل سے رو بہ ترقی ہیں تو صرف ایک فرق ہے جس کو وضاحت سے بیان کرنا ضروری ہے دفتر اول کے متعلق یہ کہنا تو درست نہیں ہوسکتا کہ اس میں اضافہ ہو رہا ہے، قربانی کرنے والوں میں یعنی اس کی وجہ یہ ہے کہ 1934ء میں جو نسل موجود تھی اور ان میں سے 5000 ہزار قربانی کرنے والے آگے آئے تھے ان میں ایک بڑی تعدا د صحابہ کی تھی ، بڑی عمر کے بزرگوں کی تھی اور ایک تعداد بچوں کی بھی تھی۔وہ تمام بزرگ صحابہ