خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 709 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 709

خطبات طاہر جلد ۶ 709 خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۷ء ہورہی ہے اور اس کو 53 سال آج مکمل ہوتے ہیں۔اس پہلو سے ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے یعنی خلفاء کا کہ اس دن کے جمعہ کو یا اس سے پہلے جو آخری ہفتے میں جمعہ ہو اس کو تحریک جدید سے متعلق وقت دیا جاتا ہے۔چنانچہ اب میں مختصر تحریک جدید کے متعلق آپ سے کچھ باتیں کروں گا۔تحریک جدید کے کئی پہلو ہیں ایک پہلو تو انتظامی ہے، ایک پہلو ہے دنیا نے اس تحریک سے کیا کچھ حاصل کیا اور ایک پہلو وہ ہے جس کا ہماری مالی قربانی سے تعلق ہے۔یہ خطبہ جمعہ جو آج دیا جار ہا ہے اور اس دن سے پہلے بھی دیا جاتارہا ہے اس کا تعلق پہلے دوامور سے نہیں بلکہ صرف جماعت کی مالی قربانیوں سے متعلق ہے۔روایتاً خلفاء پہلے مختصر اسال کی رپورٹ پیش کرتے ہیں اور اس کے بعد پھر نئے سال کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں۔جہاں تک عمومی تاریخ کا تعلق ہے اور موازنہ کرنے کے لحاظ سے سال بہ سال تجزیے کا تعلق ہے یہ بات تو ہر احمدی چھوٹا بڑا خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہر سال جماعت کا قدم ہر شعبے میں ترقی کی طرف رہا ہے اور دنیا کے حالات خواہ وہ کیسے بھی ہوں کبھی بھی برے رنگ میں جماعت احمدیہ کی مالی قربانی پر اثر انداز نہیں ہو سکے۔شدید ترین مخالفتوں کے دور میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ ہر قسم کی مالی قربانی میں آگے ہی قدم بڑھاتی رہی ہے اور اس عمومی تاریخ کا اطلاق تحریک جدید کے ساتھ بھی اسی طرح ہے جس طرح باقی دیگر امور کے ساتھ ہے۔چنانچہ اس سال بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جو یہ سال ختم ہورہا ہے ہمیں یعنی جماعت احمدیہ کو یہ توفیق ملی ہے کہ گزشتہ سالوں سے بڑھ کر وعدہ جات لکھوائے اور گزشتہ سالوں سے بڑھ کر وعدہ جات کو اس مدت کے اندر پورا کرنے کی سعی کر کے ان دونوں پہلوؤں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سال جو زیر تبصرہ ہے گزشتہ سالوں سے بہت بہتر ہے۔اس پہلو سے سب سے پہلے تو پاکستان کے متعلق یہ عرض کرتا ہوں۔جو پاکستان میں حالات ہیں، جماعت پر جس قسم کے سختی کے حالات ہیں ، ان کے پیش نظر سب سے زیادہ وہم یہ پیدا ہوسکتا تھا کہ کہیں پاکستان میں جماعت کسی پہلو سے مالی قربانی میں پیچھے نہ رہ جائے اور جیسا کہ گزشتہ سالوں میں میں آپ کو خوشخبری دیتا رہا ہوں نہ پہلے ایسا ہوا ہے نہ اس دفعہ ایسا ہوا ہے نہ انشاء اللہ آئندہ کبھی ایسا ہو گا۔ہر قسم کے حالات میں جماعت احمدیہ کا قدم ترقی کی طرف