خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 708
خطبات طاہر جلد ۶ 708 خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۷ء قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تم غور کر کے دیکھو تمہیں خدا کی کائنات میں کہیں رخنہ نہیں پاؤ گے تمہاری نگاہیں واپس لوٹ آئیں گی تمہاری طرف لیکن پھر بھی یہ رخنہ نہیں پائیں گی پھر غور کرو پھر نگاہیں دوڑاؤ تمہاری نگاہیں تھکی ہاری نا کام ہو کر پھر تمہاری طرف واپس لوٹ آئیں گی مگر خدا کی کائنات میں تم کوئی رخنہ نہیں پاؤ گے۔یہ سفر ولا متناہی ہے اور یہ ممکن نہیں کہ ہر انسان ہر لمحے میں اس ہر لمحے کا حق ادا کر سکے کیونکہ ایسے واقعات اور ایسی سوچوں کے لئے محرکات اگر چہ ہر وقت موجود ہیں لیکن انسان کی زندگی کے اور بھی کام اور بھی تو جہات کے مرکز ہیں اس لئے ناممکن ہے کہ ایک لمحے پر غور کرتے ہوئے انسان ان تمام باتوں کا جائزہ لے سکے جو اللہ تعالیٰ کے احسان کے طور پر انسان کے پس منظر میں موجود ہیں اگر اس کا حق ادا کر نے کی کوشش کرے گا تو اگلے لمحے کا حق ادا نہیں ہو سکے گا اگر اگلے لمحے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس سے اگلے اور اس سے پچھلے لمحوں کا حق ادا نہیں ہو گا۔اس لئے جب ہم یہ کہتے ہیں خدا کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے یہ کسی خاص موقع پر اسی محاورے کا استعمال نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمارے زندگی کے ہر لمحے پر یہ محاورہ چسپاں ہوتا ہے اور فی الحقیقت چسپاں ہوتا ہے اور بڑی وسعت اور گہرائی کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے۔پس آج بھی انہی لمحات سے ایک لمحہ ہے، انہی ساعتوں میں سے ایک ساعت ہے جن کے شکر کا حق ہم ادا نہیں کر سکتے مگر ایک بات ضرور ہے کہ اگر مساجد کی تعمیر کے شکر کا حق ادا کرنا ہو تو عبادت کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور سب سے بہتر خدا تعالیٰ کے تشکر کا ذریعہ یہی ہے کہ انسان ہر ایسے موقع پر جس میں خدا تعالیٰ کے لئے کوئی عبادت کے لئے گھر تعمیر کیا جائے اپنی عبادت کے معیار کو بڑھانے کی کوشش کرے۔اس سے زیادہ معنی خیز ، اس سے زیادہ حقیقی شکر اور کسی طریق پر خدا تعالیٰ کا ادا نہیں ہوسکتا۔اس مختصر خطاب کے ساتھ جو اس مسجد سے تعلق میں ہے میں اس خطاب کے دوسرے حصے کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کیونکہ آج کے دن ہمارے لئے ایک اور پہلو سے بھی بڑا اہم دن ہے۔تحریک جدید جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ حضرت مصلح موعودؓ نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے والے القا کے نتیجے میں 1934ء میں شروع کی تھی، یہ تحریک اب اپنے 54 ویں سال میں داخل