خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 707 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 707

خطبات طاہر جلد ۶ 707 خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۷ء نے پہلا دانہ منہ میں ڈالا تو مجھے خیال آیا کہ بظاہر یہ صرف ایک حلوائی کی کوشش کا نتیجہ ہے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے قوانین اور ان قوانین کے تابع بہت سے کام کرنے والے اس لڈو کی تعمیر میں اس سے بہت پہلے حصہ لے چکے ہیں اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ مجھ تک جو خدا تعالیٰ نے یہ لڈو پہنچایا اس سے پہلے کتنے خدا تعالیٰ کے احسانات ہیں جنہوں نے مجتمع ہو کر اس لڑو کی شکل اختیار کی۔انہوں نے کہا میں نے سوچا کہ ایک وقت ایک زمیندار گنے کا بیج لے کر نکلا ہوگا پتا نہیں کس موسم میں کس تلخی کے ساتھ وہ کھیتوں تک پہنچا اور اس سے پہلے اس نے کھیت کی تیاری میں بھی بہت محنت صرف کی ہوگی۔پھر اس نے گنے کی قلمیں اس کھیت میں کاشت کیں۔پھر سارا سال ان کی حفاظت کی، ان کو پانی دیا، ان کی کھاد کا خیال رکھا، چوروں اچکوں سے ان کو بچایا، پھر وہ وقت آیا کہ اس کا کھیت ہرا بھرا ہو کر جوان ہوا اور اس قابل ہوا کہ اس کو شکر میں تبدیل کر لیا جائے۔پھر اس نے وہ آلات خریدے جن کے ذریعہ گنے کا رس نچوڑا جاتا ہے۔اس نے کہا یہاں تک پہنچتے ہی میرا ذ ہن اس طرف چلا گیا کہ جن سے وہ آلات خریدے ان آلات کی بھی تو ایک داستان ہے۔وہ لوہا کسی زمانے میں زمین میں دبا ہوا تھا۔جس نے اس آلے کا جز بننا تھا جس سے پھر گنے کا رس نچوڑا جانا تھا۔کس طرح خدا تعالیٰ نے انسان کو توفیق بخشی کہ وہ اس بات کو دریافت کرے کہ لوہا اس کے لئے مفید ہے پھر اسے اس فن میں ترقی دی۔سینکڑوں نسلیں اس کام میں لگی ہیں یہاں تک کہ ترقی کرتے کرتے رفتہ رفتہ انسان اس قابل ہوا کہ ایسی مشین بنا سکے۔پھر وہ کون لوگ تھے جنہوں نے یہ مشین بنائی اور بالآخر جب یم مشین تیار ہوئی تو اس زمیندار تک پھر یہ پہنچی۔کیسے پہنچی اس کی بھی ایک داستان ہے۔غرضیکہ وہ بتاتے رہے کہ جوں جوں میں غور کرتا چلا گیا اور شاخیں تصور کی پھوٹتی رہیں جن پر میرا تصور سفر کرتا رہا۔اور یہ اتنا معاملہ حد سے زیادہ پھیل گیا اور وسیع ہو گیا کہ کئی سفر کرنے کے باوجود بھی میں اب تک ان تمام مراحل پر غور نہیں کر سکا جن مراحل سے گزرنے کے بعد یہ لڈو بالآخر اس شکل میں مجھ تک پہنچا ہے اور شروع سے آخر تک خدا تعالیٰ کا مقصد یہ تھا کہ یہ قیمتیں انسان کے لئے پیدا کی جائیں اور انسان شکر گزار بندہ بنے اور قرآن کریم میں واقعہ یہی ذکر ملتا ہے کہ ہم نے تمام کائنات کو انسان کے لئے مسخر کیا ہے۔ایک لامتناہی سلسلہ ہے احسانات کا جو جتنا غور کریں اتنا کم ہونے کی بجائے پھیلتا چلا جاتا ہے۔تنگ ہونے کی بجائے وسعت پذیر ہوتا چلا جاتا ہے اور انسانی نگاہ کھوئی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ