خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 67

خطبات طاہر جلد ۶ 67 خطبہ جمعہ ۳۰ / جنوری ۱۹۸۷ء ہو کوئی بھی ان میں سے ایسا نہیں جو خدا کی نگاہ کے سامنے نہ ہو۔وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ اور یا درکھو کہ اللہ کی نظر سے ، اللہ کی نگاہ سے ایک ذرے کے برابر وزن کی چیز بھی غائب نہیں ہوتی خواہ وہ زمین میں ہو خواہ وہ آسمان میں ہو اور ذرے سے چھوٹی بھی جتنی چیزیں ہیں وہ سب اس کی نظر میں ہیں اور اس سے بڑی جتنی چیزیں ہیں وہ سب اس کی نظر میں ہیں۔یہاں مِثْقَالِ ذَرَّةٍ سے چھوٹی چیز کا جو تصور پایا جاتا ہے وہ ہر زمانے میں بدلتا ہے۔گزشتہ زمانوں میں مِثْقَالِ ذَرَّةٍ میں جو ذہن میں تصور ابھرا کرتا تھا اس ذکر سے وہ ایک ہلکے سے غبار کا تصور تھا لیکن آنکھ سے اوجھل کسی چیز کا تصور نہیں تھا۔ان کو جب یہ آیت مخاطب ہوتی ہے تو ان کے ذہن میں یہ بات ابھرتی ہوگی کہ جو کچھ بھی ہم دیکھ رہے ہیں اس کے نیچے بھی کوئی چیز ہے اور اُن کے لئے یہ پیغام مکمل تھا۔آج کا انسان وہ چیزیں بھی معلوم کر چکا ہے جسے آنکھ نہیں دیکھتی۔مثلاً ایٹم ہے۔مثلاً اس سے چھوٹے ذرات ہیں جن پر ایٹم بنا ہوا ہے۔پروٹونز(Protons) ہیں، نیوٹرانز (Neutrons) ہیں،الیکٹرانز(Electrons) ہیں وغیرہ وغیرہ۔ان میں سے ہر ذرہ جس پر اس کی نظر پڑی، تاریخی سفر میں جس میں اس نے علمی جستجو کی ہر مقام پر یہی سمجھا کہ یہ آخری ذرہ ہے اس سے چھوٹا ذرہ ممکن نہیں اور قرآن کریم کی یہ آیت مسلسل اعلان کرتی چلی گئی وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ کہ جسے تم چھوٹے سے چھوٹا سمجھ رہے ہو اس سے بھی چھوٹی کوئی چیز ہے اور وہ بھی خدا کی نظر میں ہے اور اب جب سائنسدانوں نے مزید غور کیا تو Sub-particles نکلے۔Sub-particle پھر آگے جس چیز سے بنے ہوئے ہیں وہاں تک علم کو رسائی ہوئی اور ہر مقام پر یہ سمجھا گیا کہ اب ہم چھوٹے سے چھوٹے کے تصور کو اپنے درجہ کمال تک پہنچا چکے ہیں اور ہر غور کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کا یہ اعلان سچا نکلا وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ کہ جو بھی چھوٹے سے چھوٹا ہے اس سے بھی چھوٹا کچھ ایسا ہے جس کا تمہیں علم نہیں مگر خدا کو اس کا علم ہے۔اور جوں جوں تم علم میں سفر کرتے چلے جاؤ گے اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق تم پہ اور چھوٹوں کا علم بھی کھلتا چلا جائے گا ، ان کا علم تم پر روشن ہوتا چلا جائے گا۔یہی کیفیت اکبر کی ہے۔انسان کا جو کائنات کا تصور ہے وہ بھی پھیلتا چلا جارہا ہے اور جسے وہ اکبر سمجھا تھا کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ اس سے بھی بڑی چیزیں ہیں۔پھر جنہیں وہ اس سے بھی بڑی چیزیں سمجھا تھا کچھ عرصے کے بعد علم ہوا کہ اس