خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 66
خطبات طاہر جلد ۶ 99 66 خطبہ جمعہ ۳۰/جنوری ۱۹۸۷ء رسول اکرم ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے آپ کے غلاموں کو اسی خطاب میں شامل فرمالیتی ہے اور اچانک جس طرح ایک چشمہ پھوٹتا ہے اور وہ وسیع ہو جاتا ہے اس طرح حضرت محمد مصطفی اللہ کے ذکر سے جو چشمہ پھوٹتا ہے اس میں رفتہ رفتہ ان غلاموں کو بھی شامل فرمالیا جاتا ہے جو آپ کے تابع ویسے ہی کام کرتے ہیں، ایک بڑا خوبصورت انداز ہے۔فرمایا:۔وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرآنِ کہ اے محمد! تو جس شان میں بھی ہوتا ہے وَ مَا تَتْلُوا مِنْهُ مِنْ قُران اور جو تو اپنے رب کی طرف سے قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا اور اے محمد مصطفی کے غلامو! تم کوئی عمل بھی ایسا نہیں کرتے جسے ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے اِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ جب تم سب لوگ خوب ڈوب کر نیک کاموں میں تمام دل و جان کے ساتھ ان کو ادا کر رہے ہوتے ہو۔یہاں شان کا معنی بالعموم کام کیا جاتا ہے اور یہ درست ہے۔شان کا معنی کام بھی ہے۔لیکن شان کا معنی کام کے علاوہ ایک جلوہ نمائی بھی ہے۔انہی معنوں میں اُردو میں شان کا لفظ مستعمل ہے اور انہی معنوں میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے متعلق آتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمان : ۳۰) ہر لحظہ وہ ایک الگ جلوہ نمائی کر رہا ہوتا ہے، ایک نئی شان دکھا رہا ہوتا ہے۔تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے متعلق جب شان کا لفظ آیا ہے یہاں تو اس سے مراد یہ ہے کہ تو ہر حال میں ایک حسین جلوہ نمائی کر رہا ہے۔تیری سیرت کا ہر پہلو ، ہر لحظہ ایک شان دکھا رہا ہے اور دوسرا یہ معنی ہے کہ تیری زندگی کا کوئی لحہ بھی غیر مصروف نہیں ہے۔ہر وقت کاموں میں منہمک ہے۔پس جب بھی میں تجھے دیکھتا ہوں یعنی خدا کہتا ہے، میں تجھے کسی نہ کسی کام میں منہمک پاتا ہوں۔تیری زندگی کا ذرہ ذرہ مصروف ہے۔جاگنا بھی اور سونا بھی وَمَا تَتْلُوا مِنْهُ مِنْ قُرآن اور ہر وقت خدا تعالیٰ نے جو کلام تجھ پر نازل کیا ہے اس کی تلاوت کرتا رہتا ہے۔یعنی اس کی تلاوت خواہ لفظاً ہو یا عملاً ہو یا تفسیر ہو نیند کی حالت میں جو ذکر جاری ہے اس پر بھی یہ آیت حاوی ہو جائے گی اور اس کے بعد فرمایا وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا اب یہاں سے آگے تمام مسلمانوں کو جو آنحضرت ﷺ کی سنت پر چلنے والے ہیں ان کو شامل کر کے فرمایا وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ، یہاں شان کا لفظ نہیں بلکہ عمل کا لفظ بولا ہے۔تم جن کاموں میں بھی مصروف ہوتے