خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 701 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 701

خطبات طاہر جلد ۶ 701 ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں میں مثلِ طفلِ شیر خوار میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا الطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار یہ سراسر فضل واحساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگاہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار ( در ثمین صفحه: ۱۲۵-۱۲۶) خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء یہ جو مضمون آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے سنتے ہیں تو آپ حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے۔جن کی ہم نے بیعت کی، جن کو اپنا امام مانا ، جن کو خدا نے ہمارا امام بنایا ان کی یہ حالت ہے۔آپ تعجب سے دیکھتے ہیں اور غیر تضحیک سے ان باتوں کو دیکھتا ہے اور مجالس میں بیان کرتا ہے کہ لو یہ دیکھ لو! یہ مرزا صاحب ہیں جنہوں نے دنیا کا امام ہونے کا دعویٰ کیا، کہتے ہیں خدا نے مجھے چن لیا اور پھر کہتے ہیں کرم خاکی ہوں نہ آدم زاد ہوں، بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ہوں۔ایسا شخص دنیا کی کیا سرداری کرے گا اور دنیا کی کیسے رہنمائی کا اہل ہو گا۔وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ ایسے وجود جب وہ خدا کو مخاطب ہوتے ہیں تو خدا کی عظمتوں کے مقابل پر اپنے آپ کو دیکھ رہے ہیں اور خدا کی عظمتوں کو جاننے والا صاحب عرفان آدمی خدا کے مقابل پر اپنے آپ کا بالکل ذرہ ناچیز اور حقیر اور ذلیل ترین وجود سمجھنے لگتا ہے۔اس پر یہ روشن ہو جاتا ہے کہ جس کی طرف وہ حرکت کر رہا ہے وہ لامتناہی وجود ہے جس کی کوئی حد نہیں ، وہ حسنات کا درجہ کمال ہے، اسی سے حسنات پھوٹتی ہیں اسی کی طرف لوٹتی ہیں اور اس کے مقابل پر وہ جو اپنی حیثیت کو دیکھتے ہیں تو وہ چھوٹی ہوتی ہوتی رفتہ رفتہ نظر سے غائب ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کو دیکھنے والے کے متعلق آپ تصور کریں کہ اس کا کیا حال ہوگا۔دنیا کے دیکھنے والے بھی دراصل جب صاحب عرفان ہوتے ہیں تو دنیا کے معاملات میں بھی اپنی یہی حیثیت پاتے ہیں۔چنانچہ سائنسدان جب عالمی وسعتوں پر غور کرتے ہیں، کائنات میں نئی نئی کائناتیں دریافت ہو رہی ہیں ان پر نظر ڈالتے ہیں تو رفتہ رفتہ خود سمٹنے لگتے ہیں اور یہ بیان کرتے ہیں کہ ساری کائنات پر