خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 700
خطبات طاہر جلد ۶ 700 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء اور جس طرح میں آپ کو بتا رہا ہوں ان مراحل سے آپ گزریں گے تو پھر آپ محسوس کریں گے کہ یہ کیا واقعہ ہے اس کے بغیر آپ اس کو نہیں سمجھ سکتے۔جب خدا کے پیار کے ذکر کے ساتھ مطالبے پیدا ہوں گے اور آپ اپنے آپ کو نا اہل پائیں گے پھر آپ کے اندر کئی قسم کے خوف اور بیدار ہونے شروع ہو جائیں گے، ایک ہلچل مچ جائے گی۔پھر آپ کو محسوس ہو گا کہ کتنے امور ایسے ہیں جن کی طرف آپ کو توجہ کرنی چاہئے تھی آپ نہیں کر سکے۔ایک ایسے رستے پر آپ چل پڑیں گے جو روحانی انقلاب کا رستہ ہے۔تب آپ کو محسوس ہو گا کہ دراصل تو دامن خالی ہی خالی تھا اور یہ جو میں کہتا ہوں تو یہ مضمون اتنا وسیع مضمون ہے کہ اس کی گہرائی اور اس کی وسعت کو آپ میرے اس کہنے سے سمجھ ہی نہیں سکتے۔وہ صاحب فراست لوگ، وہ صاحب فہم اور صاحب معرفت لوگ جنہوں نے اس رنگ میں خدا کو پانے کی کوشش کی ہے اور اپنے خلاؤں کو بھرنے کی کوشش کی ہے وہ بسا اوقات ساری عمر کے سفر کے بعد بھی اپنے آپ کو خالی دیکھتے ہیں اور کچی معرفت کا یہی تقاضا ہے یہی ہونا چاہئے کیونکہ خدا کی عظمتوں سے ایک انسان اپنے آپ کو پوری طرح بھر سکتا ہی نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ایسالا متناہی مضمون ہے کہ انسان کے اندر مزید کی طلب پیدا ہو جاتی ہے اور انسان جتنی ترقی کرتا چلا جاتا ہے اتنی اپنی کمزوریوں کی طرف اس کی نگاہ اور زیادہ کثرت کے ساتھ پڑنے لگتی ہے اور زیادہ کمزوریاں دریافت کرنے لگتا ہے۔چنانچہ ایسے صاحب عرفان وجود جب خدا کو مخاطب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ :۔کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ( در تمین صفحه: ۱۲۵) یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! ہم میں تو کچھ بھی نہیں ، تو نے کیا ہم میں دیکھا جو ہمیں چن لیا، ہم تو کسی لائق بھی نہیں۔بے شمار محبت اور عشق کے ترانے دل سے اٹھتے ہیں جو دوسرے سننے والوں کو عجیب دکھائی دیتے ہیں۔جب وہ ایسے صاحب عرفان لوگوں کی باتیں سنتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کو خدا نے اس دنیا کا امام بنادیا ہے، اتنا بڑا مقام عطا کیا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا سب سے کامل غلام بنا کر اس دنیا کی امامت پر کھڑا کر دیا اور وہ یہ کہتا ہے:۔