خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 702 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 702

خطبات طاہر جلد ۶ 702 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء۔غور کرنے کے بعد اسے دیکھنے کے بعد ہماری حیثیت تو کیا ہماری دنیا کی بھی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔ریڈر ڈائجسٹ میں ایک اٹلس ہے اس میں آپ ساری کائنات کا نقشہ دیکھیں تو وہاں ایک اشارہ نظر آئے گا Arrow۔وہ ایک ایسے Spot کی طرف جو Spot بھی نظر نہیں آرہا اور وہ لکھتا یہ ہے وہ نقشے کے اوپر نوٹ دینے والا کہ ہمارا Solar System سورج اور سارے سیارے یہاں کہیں واقع ہیں لیکن اس کائنات کے مقابل پر اتنے چھوٹے ہیں کہ نقطے سے بھی دکھائی نہیں دیئے جاسکتے کیونکہ نقطہ جتنی جگہ لے گا وہ اس سے زیادہ ہوگی جتنی کائنات کے مقابل پر ہمارےSolar System کو ملنی چاہئے۔وہ کہتے ہیں ہم یہاں کہیں ہوں گے۔وہ جو خدا کی ہستی میں سفر کرتا ہے جس پر خدا روشن ہوتا ہے۔آپ تصور تو کریں اس کی دنیا سمٹ کر کیا رہ جاتی ہے؟ کچھ بھی اس کا وجود باقی نہیں رہتا اور پھر وہ مزید حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے وجود کے اندر مزید سفر اختیار کرتا ہے مزید تلاش کرتا ہے وہ راہیں جن سے خدا راضی ہو جن سے خدا اس کے اوپر عیاں ہو اور اس کے وجود کے اندر جذب ہونا شروع ہو جائے۔۔اس لئے یہ سفر تو لا متناہی سفر ہے۔خلا بھرتے رہیں گے اور نئے خلا پیدا ہوتے رہیں گے لیکن جو خلا خدا کے حسن اور پیار سے بھر رہے ہوں ان پر دنیا کی کوئی بدی غالب نہیں آسکتی۔یہ مضمون ہے جس کے اوپر آپ کو کامل یقین رکھنا۔خدا ہی ہے پھر جوان خلاؤں کو بھر سکتا ہے کیونکہ آپ کی تمنائیں اس کی طرف ہو جاتی ہیں۔آپ کی توجہ اس کی طرف پھر جاتی ہے اور باقی ساری دنیا اس کے مقابل پر بے معنی ہو کر دکھائی دینے لگتی ہے۔اس طرح آپ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس سے دعائیں کرتے ہوئے امریکہ ہو یا روس ہو یا دنیا کا کوئی خطہ ہو وہاں زندگی بسر کریں آپ کے اندر ایک حیرت انگیز عظمت کا احساس بیدار ہو گا جو اس کامل انکسار کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔کامل انکسار کے نتیجے میں ایک ایسی عظمت نصیب ہوتی ہے جو خدا کے فضل کے نتیجے میں نصیب ہوتی ہے۔انسان کو قوت محسوس ہوتی ہے، وہ جانتا ہے کہ وہ غالب آنے والا ہے، وہ جانتا ہے کہ وہ قوی ہے اور ہو نہیں سکتا کہ غیر اللہ بھی اس کے اوپر غالب آسکے۔تو یہ خوف سارے خود بخود مٹ جائیں گے ، ان کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہے گی۔آپ کے بچے بھی آپ سے بچپن ہی میں یہ عظمت کر دار حاصل کریں گے ، اس سوسائٹی میں