خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 645
خطبات طاہر جلد ۶ 645 خطبه جمعه ۹ /اکتوبر ۱۹۸۷ء مسائل کا حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر جتنے بھی ایسے منصوبوں کا میں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا اور جولٹریچر امریکہ کی طرف سے مختلف ایجنسیوں کے نام پر یا مختلف مصنفین کے نام پر ان مسائل کو حل کرنے کے لئے بظا ہر آزادانہ شائع کروایا جاتا ہے اس کا بھی میں نے جائزہ لیا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ کوشش بھی خود مزید تضادات کا شکار ہے۔ایسی سوسائٹی جو اس قسم کے تضادات کا شکار ہو چکی ہو اس کے زندہ رہنے اور پنپنے کے بظاہر کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔لازما کچھ ہونا ہے، لازما خدا کی تقدیر کچھ ایسی باتیں ظاہر کرے گی جس کے نتیجے میں یہ فرسودہ نظام مٹنے ہیں اور اس کے سوا کوئی چارہ دکھائی نہیں دیتا۔صرف فیصلہ کن امر یہ ہے کہ کیسے یہ نظام مٹیں گے؟ جیسا کہ میں نے بیان کیا اب تو نہ مشرق سے کوئی امید رہی نہ مغرب سے کوئی امید رہی اور جہاں تک مذہبی نکتہ نگاہ کا تعلق ہے ایسی کوئی قوم دکھائی نہیں دے رہی جو خالصہ اللہ اور خالصہ بنی نوع انسان کے تعلق کی بناء پر کوئی منصو بہ رکھتی ہو اور اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہو۔دنیا کے سیاسی نقشے پر آپ نگاہ ڈال کر دیکھیں خواہ عیسائی دنیا کا سیاسی نقشہ ہو یا اسلامی دنیا کا سیاسی نقشہ ہو یاد ہر یہ دنیا کا یا اور مذاہب کے نام پر منسوب ہونے والے سیاسی نقشے ہوں کہیں آپ کو کوئی بھی نجات کا دروازہ دکھائی نہیں دے گا بلکہ ان بڑے تضادات کا جن کا میں نے ذکر کیا ہے ہر چھوٹی قوم مزید شکار ہو چکی ہے اور وہ نہیں جانتے کہ ہمیں کیا رخ اختیا کرنا ہے۔چنانچہ بسا اوقات آپ کو یہ دکھائی دے گا کہ بعض لوگ امریکہ جس کو آزاد دنیا کہا جاتا ہے ان کے حالات سے غیر مطمئن ہوکر مشرق میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض جو مشرق کو قریب سے دیکھتے ہیں اور اس کے مشرقی طاقتوں کے متعلق ان کے تصورات میں تبدیلی پیدا ہو چکی ہوتی ہے تجر بہ ان کو بتاتا ہے کہ یہ بھی نہایت ہی خطرناک اور مہلک تعلق ہے جو کوئی بھی فائدہ عطا نہیں کریں گے تو پھر وہاں سے وہ بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں اور مغرب کا رُخ اختیار کرتے ہیں۔کچھ ایسے ممالک ہیں جو مستقل یا ایک کا حصہ بن گئے یا دوسرے کا حصہ بن گئے اور جو ملک جس نظام کا حصہ بنا اس نے اپنے مذہب کو بھی وہی رنگ عطا کر دیا۔چنانچہ ایک ہی مذہب مختلف رنگوں میں دکھائی دینے لگا۔اسلامی دنیا کا حال آپ دیکھ لیجئے آپ کو اسلام لیبیا میں اور سیر یا یعنی شام