خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 646 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 646

خطبات طاہر جلد ۶ 646 خطبه جمعه ۹ /اکتوبر ۱۹۸۷ء میں نہایت سست دکھائی دے گا اور یہی اسلام سعودی عریبیہ میں اور ایران میں مختلف رنگوں کا سبز دکھائی دے گا۔کچھ ممالک ایسے ہیں جنہوں نے بغیر مذہب کے یک طرفہ تعلق کو قبول کر لیا اور ایک طاقت کے اوپر گویا لٹک گئے۔کچھ ایسے ہیں جنہیں آج تک اپنی بنیادی تشخیص کی ہی توفیق نہیں ملی۔جہاں تک ایران کا تعلق ہے ایران نے یہ حل نکالنے کی کوشش کی نہ ہم مشرق سے تعلق رکھیں نہ مغرب سے تعلق رکھیں اور جس چیز کو ہم اسلام سمجھتے ہیں اسے دنیا کے سامنے آزادانہ پیش کریں تا کہ اس کے اوپر کسی بڑے بلاک کا اثر دکھائی نہ دے لیکن بدنصیبی سے جس کو انہوں نے اسلام سمجھا اور اسلام دیکھا اور اسلام کے طور پر پیش کیا وہ خود اپنی ذات میں ایک بھیانک تصور ہے جو ہر گز دنیا کو مطمئن نہیں کرسکتا۔تو اب بڑی دیانتداری سے اور بیرونی نظر سے اگر آپ دیکھیں، آفاقی نظر سے دیکھیں تو دنیا کے کسی خطے میں مستقبل کے امن کی کوئی ضمانت دکھائی نہیں دے گی اور کوئی ایسے آثار دکھائی نہیں دیں گے جن پر بناء کرتے ہوئے ہم ہوشمندانہ طور پر امید رکھ سکیں کہ ہاں آئندہ کسی وقت یا حالات تبدیل ہو جائیں گے۔آپ ہیں صرف یعنی جماعت احمد یہ اور اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے جس سے دنیا کے مستقل کا امن وابستہ ہے۔عقلی طور پر وابستہ ہو سکتا ہے، عقلی طور پر یہ امکان موجود ہے کہ اگر جماعت احمد یہ دنیا میں پھیلے تو اس کے ساتھ ہر قسم کے امن کا تحفظ دنیا میں پھیلے گا اور اس کے ساتھ ہر قسم کے تضادات دور ہونے کا ایک سلسلہ جاری ہو جائے گا۔یہ دعویٰ بہت بڑا دعویٰ ہے لیکن امر واقعہ ہے کہ ہر احمدی اپنی شخصیت کے اندر اس دعویٰ کو جانچ سکتا ہے۔احمدیت نے اسے کیا شخصیت عطا فرمائی ہے ایک انتہائی متوازن شخصیت جو خالصۂ انصاف پر ہی مبنی نہیں بلکہ اپنا حق چھوڑ کر دوسرے پر احسان کرنے کے رجحان پر مبنی ہے۔ایک ایسی شخصیت جو خالصہ اللہ سے محبت رکھنے والی اور اللہ کی محبت چاہنے والی ہے، ایک ایسی شخصیت جو واقعہ بنی نوع انسان کی ہمدردی رکھتی ہے۔مشرق سے بھی محبت رکھتی ہے، مغرب سے بھی محبت رکھتی ہے، نہ امریکہ میں رہتے ہوئے امریکن احمدی کو روس سے دشمنی ہے بلکہ روسی انسان اسی طرح اس کو پیارا ہے جس طرح مغرب میں بسنے والا کوئی انسان۔نہ مشرقی اشترا کی دنیا میں رہنے والے آدمی کو امریکہ سے کوئی دشمنی ہے بلکہ امریکہ کا انسان اسے اسی طرح پیارا ہے جس طرح مشرق میں بسنے والا انسان۔ایک عالمی شخصیت وجود میں آرہی ہے۔ایک بین الاقوامی روح ترقی کر رہی ہے جس کا تمام تر مدار