خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 644 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 644

خطبات طاہر جلد ۶ 644 خطبه جمعه ۹ /اکتوبر ۱۹۸۷ء مٹانے کے لئے اس سے وعدہ کریں کہ میں تمہیں گندم کے پہاڑ دوں گا اور وہ پہاڑ ایسے دیں کہ جن میں سے ہر دانے کے اندر کیر الگا ہوا ہواور اندر سے اس کو کھا چکا ہو۔تو بہت ہی بڑا اور خوفناک تضاد ہے اور اب تک امریکہ نے اپنے مسائل کو حل کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی ہیں اس تضاد کو وہ حل نہیں کر سکے۔اس تضاد کو حل کرنے کے لئے جو متبادل نظام یا یوں کہنا چاہئے کہ جو متبادل طریق ان کے ذہن میں آئے اوران کو انہوں نے Implement کرنے کی کوشش کی ، نافذ کرنے کی کوشش کی ان کی بحث میں میں اس وقت نہیں جانا چاہتا لیکن ان کے گہرے تفصیلی مطالعہ کے نتیجے میں یقین کے ساتھ آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وہ ہر کوشش جو امریکہ نے اس تضاد کو دور کرنے کے لئے کی ہے وہ خود تضادات کا شکار ہے اور اس کی کامیابی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔دوسری طرف ہم اس پہلو سے جب امریکہ کا جائزہ لیتے ہیں کہ ایک بے خدا نظام کے مقابل پر خدا والوں کو امن کی ضمانت دیتا ہے تو بے اختیار دل امریکہ کی طرف مائل ہوتا ہے اور اس کا ممنون ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا کے لئے کم سے کم یہ ضمانت ضرور ہے کہ زبردستی کوئی بے خدا نظام ان پر نہیں ٹھونسا جائے گا۔بہت بڑی خدمت ہے دنیا کی اور بہت بڑا تحفظ ہے مذاہب کو جو اس پہلو سے امریکہ مہیا کرتا ہے۔دوسرے پہلو سے دیکھیں تو مذاہب کی روح کو کھا جانے والے جتنے بھی ایسے مضرات ہیں ،ایسے خوفناک عوامل ہیں جو مذہب کی روح کا چاٹ جاتے ہیں اور اخلاق کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں وہ سارے عوامل امریکہ میں پیدا ہو رہے ہیں اور وہ سارے مضرات امریکہ سے باہر کی دنیا میں بھیجے جارہے ہیں۔خود امریکہ کی سوسائٹی بھی خدا کی طرف منسوب ہونے کے باوجود عملی طور پر خدا سے اس طرح دور ہوتی چلی جارہی ہے کہ جو شائبہ خدا کی طرف منسوب ہونے کے نتیجے میں اعمال میں ملنا چاہئے ، ایک تصویری ، ایک جھلکی سی دکھائی دینی چاہئے وہ دن بدن زائل ہوتی چلی جارہی ہے اور عنقاء ہوتی چلی جارہی ہے۔ہر اخلاقی خرابی کی جڑیں امریکہ کی آزاد تہذیب میں وابستہ ہیں۔پس ایک طرف سے جو امن دیا دوسرے ہاتھ سے وہ امن بھی واپس لے لیا پھر ایک طرف سے جو امن دیا دوسرے ہاتھ سے وہ امن بھی واپس لے لیا اور اس تضاد کا بھی ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ان کے مفکرین جو ان مسائل پر غور کرتے رہتے ہیں ان کے سامنے یہ مسائل موجود ہیں اور بہت سی بین الاقوامی کوششیں ایسی نظر آتی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ بالا رادہ منصوبے بنا کران