خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 637 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 637

خطبات طاہر جلد ۶ 637 خطبه جمعه ۲ /اکتوبر ۱۹۸۷ء پر لازما ایمان لائیں گے۔اس کے بعد تم مجھ پر چھوڑ دو بخشش بھی میں نے کرنی ہے، تمہاری کمزوریاں بھی میں نے دور کرنی ہے اور پھر آگے فرمایا کہ یہ پھر دعا کرنا۔وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ( آل عمران : ۱۹۴) اے ہمارے رب! ہمیں نیکیوں کے ساتھ وفات دینا۔اتنا عظیم الشان نظام ہے اسلام کا نظام جو آپ کو اپنی طرف بلا رہا ہے اور کتنا آسان ہے بظاہر کتنا مشکل دکھائی دیتا تھا۔ایمان لانا کامل خلوص کے ساتھ اس کے نتیجے میں اگر چہ کوئی احسان نہیں ہے خدا پر اپنی ذات پر احسان ہے لیکن انسان کو بھی خدا نے کیسی نازوں والی دعا سکھا دی یعنی ایمان لاتے ہی مجھے سے مانگنا کچھ کہ اے اللہ ! ہم نے تو کمال کر دیا ہم ایمان لے آئے ہیں اب کچھ دے ہمیں۔ایمان لائے اپنی خاطر ایمان لائے حقیقت کے اوپر ،سورج پر بھی تو ایمان لاتے ہو، ہر چیز جو دیکھتے ہو اس پر ایمان لاتے ہو۔سب سے زیادہ تو خدا کی ذات ہے ایمان لانے کے لائق لیکن خدا کے پیار کے انداز ہیں۔تازہ تازہ جو آیا ہو اس کے ساتھ زیادہ لاڈ ہوا کرتے ہیں، زیادہ دلداریاں ہوتی ہیں۔یہی اس نے ہمیں سکھایا ہے کہ جب تمہارے اندر نئے لوگ داخل ہوا کریں تو وہ مؤلفۃ القلوب ہوتے ہیں تم ان کی تالیف قلب کرو، ان کے ساتھ عام احمد یوں والا عام مسلمانوں والا سلوک نہ کرو، زیادہ پیار اور محبت کے ساتھ ان کو سینے سے لگاؤ۔کیسے ہوسکتا تھا کہ ہمیں یہ تعلیم دی اور خود اس پر عمل نہ کرے؟ چنانچہ اس آیت میں وہ مضمون بیان ہوا ہے فرمایا کہ ایمان لاتے ہی مانگنا، ناز کرنا لاڈ کرنا میرے ساتھ مجھے کہنا کہ اے خدا ہم ایمان لائے اب ہمیں دے کچھ اور پہلی قیمت یہ مانگنا کہ ہمارے گناہ معاف فرما دے۔پہلے گناہوں سے بخشش کہ بغیر انسان ہلکا نہیں ہوسکتا اور ساتھ ہی پھر یا د رکھنا کہ ابھی تم اس لائق نہیں ہو کہ مزید گناہوں سے بچ سکو۔پہلے گناہوں سے معافی کے بعد پھر تم پر گناہوں کے ڈھیر چڑھتے چلے جائیں گے اس لئے دوسری دعا تم نے یہ کرنی ہے وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتنا ہماری کمزوریاں بھی تو دور فرما یہ نہ ہو کہ ایک طرف سے گناہ دھل رہے ہوں اور دوسری طرف سے اور دل کو میلا کرتے چلے جائیں۔پھر فرمایا کہ اسی پر اکتفا نہ کرنا کیونکہ موت اور حیات انسان کے قبضہ میں نہیں۔ہو سکتا ہے کہ ایک انسان اپنی کمزوریاں دور کر رہا ہولیکن ابھی اکثر کمزوریاں باقی ہوں اور اس کو موت آجائے۔فرمایا کہ یہ بھی خدا پر ہی چھوڑ دو پھر۔یہ عرض کرنا کہ ہم نہیں جانتے کہ کب تک ہماری کمزوریاں دور ہوں گی لیکن ایک منت کرتے ہیں کہ نہ بلانا