خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 611 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 611

خطبات طاہر جلد ۶ 611 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء صلى الله کا میں آگے ذکر کروں گا۔فرمایا کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں ان کو خواہ امن کی بات پہنچے خواہ خوف کی بات پہنچے انہوں نے آگے بات کرنی کرنی ہے۔اتنی عقل نہیں کہ خود پہچان سکیں کہ بات مناسب بھی ہے کہ نہیں اس کے اندر کوئی بدی کے پہلو تو مضمر نہیں ہیں، شرارت تو نہیں مخفی۔یہ ساری باتیں دیکھنے کی وہ بیچارے اہلیت نہیں رکھتے لیکن خود شرارت نہیں کرنے والے ورنہ وہ صرف خوف کی باتیں پھیلاتے۔ایسے لوگوں سے الزام اٹھانے کے لئے قرآن کریم نے عجیب اسلوب اختیار فرمایا ہے۔فرمایا ہے یہ لوگ ان کو تم متہم نہیں کر سکتے یہ بیچارے تو امن کی باتیں ہوں وہ بھی پھیلا دیتے ہیں، خوف کی باتیں ہوں وہ بھی پھیلا دیتے ہیں لیکن نصیحت فرمائی کہ تمہیں چاہئے کہ جب کوئی باتیں سنو تو ان لوگوں تک پہنچایا کرو جن کا ان امور میں انتظا می تعلق ہے جن کے سپر دخدا تعالیٰ نے معاملات کی باگ دوڑ رکھی ہے سپرد کی ہوئی ہے۔وہ لوگ یا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ جب تک وہ ان میں موجود رہے پہلا حق ان کا تھا کہ ان تک یہ بات پہنچائی جائے۔ان کو خدا نے فہم بخشا ہے، ان کو استطاعت عطا فرمائی ہے کہ وہ چھان بین کر سکیں اور پھر وہ بتائیں کہ اس بات کے پھیلانے میں کوئی عار تو نہیں، کوئی نقص کا خطرہ تو نہیں، کوئی شر کا پہلو تو نہیں لیکن اس کے علاوہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ارادہ شرارت اور بدی کی نیت سے باتیں پھیلاتے ہیں۔ان کے متعلق قرآن کریم نے بڑی سخت تنبیہ فرمائی ہے فرمایا:۔لَبِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِيْنَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُخْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلان کہ اگر یہ منافق لوگ وہ لوگ جن کے دل بیمار ہیں ، وہ لوگ جو عادتا مد ینہ میں غلط خبریں پھیلانے والے ہیں اور نیت کے ساتھ شرارت کی خبریں پھیلاتے ہیں ، وہ اس بات سے غافل نہ رہیں کہ خدا تعالیٰ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ تجھے ان کے اوپر مسلط فرمادے اور ان کے پیچھے لگا دے۔پھر وہ اس حال کو پہنچ جائیں کہ بہت شاذ کے طور پر تیرے ارد گرد دکھائی دیں گے ورنہ وہ اس جگہ کو چھوڑ کر باہر جانے پر مجبور ہو جائیں گے۔تو بعض دفعہ بعض لوگ عمد أشرارت پھیلانے والے بھی ہوتے ہیں۔ان دونوں آیات کا (الاحزاب: ۶۱)