خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 610

خطبات طاہر جلد ۶ 610 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء الله ایک با قاعدہ پلان (Plan) بنائی جاتی تھی اور اس کے مطابق پھر ان افواہوں کو پھیلا یا جاتا تھا۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں جبکہ بڑی تیزی کے ساتھ عرب سوسائٹی انتہائی شدید قسم کی روحانی بیماریوں سے نکل کر ایک عظیم الشان صحت مند دور میں داخل ہورہی تھی اور بڑی تیزی کے ساتھ روحانی ترقی کر رہی تھی اس وقت بھی اس قسم کے منصوبہ بندی کے ساتھ کئے جانے والے حملے مسلمان سوسائٹی پر ہورہے تھے۔کچھ حملے تو وہ تھے جو تلوار اور تیر کے حملے تھے جو نظر آ جاتے تھے۔اس کے علاوہ مدینہ میں ہر طرف افواہیں پھیلانے والے بھی موجود تھے ، شرارت کرنے والے موجود تھے، حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے متعلق اعتماد اٹھانے والی باتیں کرنے والے موجود تھے ، آپ کی ازواج مطہرات امھات المؤمنین پر حملہ کرنے والے موجود تھے۔مومنوں کے متعلق عموما بدزبانی کرنے والے اور ایسی باتیں پھیلانے والے موجود تھے جس سے خود مومنوں کی جماعت کا مومنوں کی جماعت کے متعلق اطمینان ختم ہو جائے اور اعتماد اٹھ جائے اور ان سب باتوں کو قرآن کریم نے محفوظ فرمایا ہے۔تعجب ہوتا ہے اگر جو عام آدمی سرسری نظر سے دیکھنے والا ہو اس کو ضرور تعجب ہوتا ہے کہ کیا ضرورت تھی رسول اکرم ﷺ کے زمانے کے مومنوں اور مسلمانوں اور مدینہ میں رہنے والوں کے متعلق یہ نقشہ کھینچنے کی ؟ بعض نقشے ایسے خوفناک نظر آتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے اچھا اس زمانے میں بھی یہ باتیں ہوا کرتی تھیں حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ قرآن کی سچائی کے دلائل میں سے ایک عظیم دلیل ہے۔سچائی کی کتاب ہے کسی چیز پر پردہ نہیں ڈالتی۔ہر بات کو محفوظ کرتی ہے اور کچی اور حقیقی تاریخ دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔اعلیٰ سے اعلیٰ سوسائٹی میں بھی بیمار لوگ ہوتے ہیں اور اعلیٰ سے اعلیٰ سوسائٹی کو بیمار دکھانے والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔اچھے لوگوں کو برا کہنے والے بھی ہوتے ہیں اور بروں سے میں اچھے بھی دکھائی دیتے ہیں۔الله ہر قسم کے پہلو جو ایک سوسائٹی میں جو ترقی کر رہی ہے صحت یا عدم صحت کے موجود ہیں وہ سارے قرآن کریم میں محفوظ فرما دیئے ہیں اور جو بیماریاں پھیلانے کا ذکر ہے ان میں ایک ایسی چیز ہے جس کو خاص طور پر میں نے آج کے لئے چنا ہے وہ یہی ہے کہ بعض لوگ سادگی سے عادتا اس بات کے عادی ہوتے ہیں کہ جو بات سنی اسے آگے پہنچا دیا۔چنانچہ یہاں جن لوگوں کا ذکر ہے اس آیت میں جس کہ میں نے تلاوت کی ہے یہاں شریروں کا ذکر نہیں ہے وہ دوسری آیت میں ہے جس