خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 538
خطبات طاہر جلد ۶ 538 خطبه جمعه ۴ ۱اراگست ۱۹۸۷ء إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيْلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا فَأُولَيْكَ عَسَى الله اَنْ يَعْفُو عَنْهُمْ وَكَانَ اللهُ عَفُوا غَفُورًا (النساء: ۹۸-۱۰۰) ان دونوں کے متعلق یہ بیان فرما کر کہ بعض کو محض حسن سلوک کا وعدہ دیا گیا ہے بعض کو غیر معمولی درجات عطا فرمانے کا وعدہ دیا گیا ہے۔ایک اور گروہ کا ذکر فرمایا اِنَّ الَّذِینَ تَوَقُهُمُ الْمَلَكَةُ ظَالِی اَنْفُسِهِمْ ایسے بھی ہیں جو اس حالت میں مرتے ہیں یعنی خدا کے فرشتے ان کو اس حالت میں واپسی کا پیغام دیتے ہیں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔قَالُوا فِيمَ كُنتُم وہ فرشتے ان سے پوچھتے ہیں یا پوچھیں گے کہ تمہارا کیا حال تھا؟ کیوں تم نے ایسا کیا؟ وہ جواب دیتے ہیں كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ہم زمین میں بہت کمزور سمجھے گئے اور ہم سے کمزوروں والا سلوک کیا گیا اس لئے ہم اپنے دین پر قائم نہیں رہ سکے، نیک اعمال پر قائم نہیں رہ سکے ظَالِی اَنفُسِهِم نے یہ بات واضح کر دی کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو مجبوریوں کی حالت میں راہ حق سے یا عقیدہ ہٹ جاتے ہیں یا عملاً ہٹ جاتے ہیں اور دین سے تعلق توڑ لیتے ہیں ، خاموش ہو کر غائب ہو جاتے ہیں۔تو یہ وہ انقَعِدِينَ ہیں جن کا پہلے القاعِدِينَ سے کوئی تعلق نہیں ایک الگ ایک تیسری قسم ہے جس کا بیان ہو رہا ہے۔قَالُوا الَم تَكُنْ اَرْضُ اللهِ وَاسِعَةً فرشتے ان کو جواب دیں گے یا جوابا پوچھیں گے کہ کیا خدا کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر کے چلے جاتے فَأُولَبِكَ مَأْ ونَهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مصير ا یہ وہ لوگ ہیں جن کو جہنم میں سزا دی جائے گی اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہے لوٹ کر آنے کی جگہ، ان کے پہنچے کی جگہ بہت ہی بری ہے۔إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ اب ایک چوتھے گروہ کا بھی ذکر فرما دیا گیا۔إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ ہاں وہ کمزور حال لوگ جن کو لوگوں نے بالکل بے طاقت دیکھا مردوں میں سے بھی اور عورتوں میں سے بھی اور بچوں میں سے بھی وَ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ