خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 539
خطبات طاہر جلد ۶ 539 خطبه جمعه ۴ ار ا گست ۱۹۸۷ء لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيْلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا وہ کوئی حیلہ نہیں پاتے۔اتنے کمزور ہیں واقعہ کہ ظالم اور جابر کا مقابلہ نہیں کر سکتے ، اپنی اعلیٰ قدروں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔وَلَا يَهْتَدُونَ سبیلا اور ملک چھوڑ کر باہر جانے کے لئے بھی ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔فَأُولَك عَسَى اللهُ اَنْ تَعْفُوَ عَنْهُمْ بعید نہیں کہ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے عفو کا سلوک فرمائے۔وَكَانَ اللهُ عَفُوا غَفُورًا اور اللہ تعالیٰ بہت ہی عضو فرمانے والا اور بہت ہی بخشنے والا ہے۔پس یہ جو چار گروہ ہیں یہ ایک ایسی حالت کی خبر دے رہے ہیں جس میں ایمان لانے کے نتیجے میں بعض خدا کے بندوں کو مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔قتال نہیں ہو رہا، یک طرفہ ظلم تو ڑے جار ہے ہیں۔اس وقت چار قسم کے گروہ ہیں جن کا ذکر ملتا ہے ایک وہ جو ظلموں سے مرعوب ہونے کی بجائے خدا تعالیٰ کا پیغام دوسروں تک پہنچانے میں، مالی اور جانی قربانی پیش کرنے میں، خدا کی خاطر ہر قسم کے دکھ اٹھانے میں صف اول کے مجاہدین ہیں۔ہر نیکی کے میدان میں مصائب کی شدت کے باوجود جرأت کے ساتھ آگے بڑھنے والے ہیں اور کسی قسم کی آفات ان کے اخلاص اور ان کے جذ بہ خدمت پر برے رنگ میں اثر انداز نہیں ہوتیں۔دوسرا گروہ وہ ہے جو اپنے دین کی تو حفاظت کرتا ہے ، اپنے ایمان کو نقصان نہیں پہنچنے دیتا لیکن عملاً غیر معمولی طور پر خدمت دین میں آگے نہیں بڑھتا ، خاموش بیٹھ رہتا ہے۔جو مجاہدین ہیں ان کو داد کی نظر سے دیکھتا ہے، ان کے حق میں دعا ئیں ضرور کرتا ہوگا لیکن جانی یامالی قربانی میں ایسے سخت دور میں انہیں خاص خدمت کی توفیق نہیں ملتی۔تیسرے وہ ہیں جو ظلموں سے مرعوب ہونے کی وجہ سے اپنے دین کو نقصان پہنچا بیٹھتے ہیں یعنی نظریاتی لحاظ سے یا عملی لحاظ سے کسی پہلو سے بھی ہو اور باوجود اس کے کہ استطاعت رکھتے ہیں ہجرت نہیں کرتے۔مالی منفعتیں ، دنیا کے فوائد یا نقصانات کے احتمالات ان کو اس بات سے باز رکھتے ہیں کہ وہ ایک جگہ چھوڑ کر کسی اور جگہ چلے جائیں۔ایسے لوگوں کے لئے نہایت سخت وعید ہے کہ جہنم ان کا ٹھکانہ ہے اور یہ ٹھکانہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔چوتھا گر وہ وہ ہے جو اتنا کمزور ہے کہ نہ اپنے ایمان کی صحیح طرح حفاظت کر سکتا ہے نہ ہجرت کی طاقت پاتا ہے اور بالکل بے بس ہے۔ان کے متعلق فرمایا کہ بعید نہیں کہ اللہ ان سے حسن سلوک