خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 537
خطبات طاہر جلد ۶ 537 خطبه جمعه ۴ ار ا گست ۱۹۸۷ء ہو اس آیت پر غور کرنے سے یا ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں قتال والے جہاد کا ذکر نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قتال کے وقت جب کہ جہاد تلوار کی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہو اس وقت جو لوگ پیچھے بیٹھ رہتے ہیں اور ان کے پاس کوئی عذر نہیں ہوتا ان کے متعلق تو قرآن کریم میں بہت ہی سخت وعید آتی ہے اور ایک سے زیادہ مرتبہ ان کے متعلق خدا تعالیٰ کی سخت ناراضگی کا اظہار ملتا ہے اور بہت ہی سخت تنبیہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سب نیکیاں ضائع ہر جائیں گی اگر وہ پیچھے بیٹھ ر ہیں گے اور جب ساری قوم موت اور زندگی کی جدوجہد میں مبتلا ہواور قتال ہورہا ہو تو کسی مومن کو جو مجبور اور معذور نہ ہو قرآن کریم یہ حق ہی نہیں دیتا کہ وہ بلا عذ رقتال سے باہر رہے۔اس کے باوجود یہاں جن القمدِین کا ذکر ہے ان کا ذکر فرماتے ہوئے دو باتیں بڑی نمایاں نظر آتیں ہیں۔ایک تو یہ کہ کسی قسم کی کوئی وعید کہیں نہیں ملتی، کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں ملتا، کوئی نار جہنم کی وعید نظر نہیں آتی اور دوسری بات یہ کہ اگر چہ ان کے اوپر جہاد کرنے والوں کے درجات کا بیان تو ہے لیکن ان کو بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ان حُسنی سے باہر نہیں رکھا گیا بلکہ جملہ معترضہ کے طور پر بیچ میں آیت کا ایک ٹکڑا داخل فرمایا گیاوَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الْحُسْنَى پہلے مضمون کو چھوڑ کر بیچ میں اس کو داخل کر دیا گیا تا کہ یہ بات واضح ہو جائے کہ ان لوگوں پر بھی خدا تعالیٰ کا فضل تو بہر حال ہے، ان سے حسن سلوک کا وعدہ موجود ہے۔اس کے باوجود دوسروں کو ان پر بہت فضیلت ہے جو خدمت دین میں بہت آگے آگے اور پیش پیش ہیں۔پس یہ کون سے مجاہدین ہیں اور یہ کون سے مومنین ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے یہاں ایک خاص رنگ میں روشنی ڈالی اور وہ پیچھے بیٹھ رہنے والے کون سے ہیں جو پیچھے بیٹھ رہنے کے باوجود کسی نہ کسی رنگ میں ثواب میں شریک ہو جاتے ہیں۔ان کے متعلق اگلی آیت کسی حد تک وضاحت فرما دیتی ہے۔فرمایا:۔اِنَّ الَّذِينَ تَوَفُهُمُ الْمَلبِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللهِ وَاسِعَةً فَتُهَا جِرُوا فِيهَا فَأُولَيْكَ مَأُونَهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًان