خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 532 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 532

خطبات طاہر جلد ۶ 532 خطبه جمعه ۱۷ اگست ۱۹۸۷ء عادت ہے، گھر صاف ہیں۔گھروں کو خوب صاف رکھتے ہیں مانجھتے ہیں یعنی اپنا گند سوسائٹی کے سپرد کر دیا۔اس کا کسی احمدی کو کوئی حق نہیں ہے۔اپنا گندا اپنے گھر سے دور کر کے قوم کے سپرد نہیں کرنا یعنی قوم کے اوپر نہیں پھینکنا بلکہ اس کی حفاظت کا انتظام کرنا ہے جہاں اچھی میونسپل کمیٹیاں ہیں وہاں تو ایسے انتظامات ہوتے ہیں سہولت کے ساتھ کہ گندگی کو ڈبوں میں بند کیا جاسکتا ہے۔جہاں نہیں ہے اور احمدی گاؤں ہے وہاں ان کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ مل کر ایسا انتظام کریں کہ گھروں کا گند باہر گلیوں میں نہ پھینکا جائے، گھروں کی گندگی نالیوں میں نہ ہے۔جہاں تک ممکن ہے اس کو اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ قومی انتظام نہ بھی ہو تو گھروں کو اپنے طور پر کچھ ایسے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں کہ وہ ایک نیکی کو اختیار کرتے ہوئے ایک بڑے جرم کا شکار نہ ہو جائیں۔قوم کے جو حقوق ہیں وہ افراد کے ذاتی حقوق پر کئی پہلوؤں سے فوقیت رکھتے ہیں ان میں ایک یہ بھی کہ اپنی صفائی کو قوم کا گند بنانے کا کسی کو حق نہیں۔اس لئے یا تو قومی طور پر مل کر وقار عمل کے ذریعے ایسے انتظام کئے جائیں یا کوئی پھر اپنے گھروں میں ایسے بڑے ڈبے رکھ لیں کہ وقتا فوقتا اس کے خالی کرنے کی کوشش کی جائے گھر والوں کی طرف سے کسی ایسی جگہ جہاں گندگی کے لئے ڈھیر مقرر کئے جاتے ہیں۔تو ان سب باتوں کی طرف توجہ کریں میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اگلی صدی سے پہلے اس پہلو سے بھی ہم ایک امت واحدہ بننے کی کوشش کریں گے اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک نہایت پاکیزہ اور صاف شفاف امت واحدہ کے طور پر ظاہر ہوں گے۔اللہ کرے کہ ہمیں اس کی توفیق عطا ہو۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج بھی جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز جمع ہوگی کیونکہ ابھی تک باہر سے آنے والے مہمانوں کی کثرت ہے اور ان کے لئے تکلیف کا موجب ہوتا ہے کہ ظہر کے بعد واپس جائیں جو بہت دور دور جگہیں ہیں پھر وہ واپس عصر کے لئے تشریف لا ئیں۔تو اس لئے آج کے جمعہ میں بھی اس کے ساتھ ہی انشاء اللہ عصر کی نماز جمع کی جائے گی۔کل تک دیکھا جائے گا اگر ممکن ہوا تو ظہر اور عصر کی نماز میں الگ کر دی جائیں گی اور جب تک مغرب اور عشاء کی ضرورت محسوس ہو گی باہر سے آنے