خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 531
خطبات طاہر جلد ۶ 531 خطبہ جمعہ ۷ / اگست ۱۹۸۷ء تو جہاں ممکن ہے وہاں جماعت کو یہ بھی کوشش کرنی چاہئے، یعنی صلح نظر بلند تر رہنا چاہئے۔ایک اور بات گھروں کی صفائی کے نتیجے میں کہہ کر اب میں اس مضمون کو ختم کروں گا کہ گھروں کی صفائی عمومی عادات کی صفائی سے گہرا تعلق رکھتیں ہیں۔جو لوگ گندے مزاج کے ہوں وہ گھر کیسے صاف رکھیں گے۔انسانی مزاج منعکس ہوتا ہے گھروں میں۔اس لئے جب کہتے ہیں گھروں کی صفائی رکھو اور ان کو پاک نمونہ بناؤ تو ظاہر بات ہے کہ آپ کی شخصی عادات کو بھی صاف ہونا ہوگا اور نمونہ بنا ہوگا۔اپنے مزاج میں شائستگی پیدا کریں ، صاف اور ستھرا بدن ، رہن رکھنے کی عادت ڈالیں اور جہاں تک ممکن ہے غریبانہ کپڑے بھی ہوں تو دھوکر ، بار بار دھو کر ان کو پہنا جائے۔ایک غریب گھر کے متعلق مجھے کسی نے بتایا ہماری ہمشیرگان میں سے کسی نے اطلاع دی کہ بہت غریبانہ ان کا گزارہ تھا لیکن اچھے وقتوں سے ان کے اندر یہ عادت چلی آرہی تھی جسے انہوں نے آخر وقت تک بڑی عمدگی کے ساتھ قائم رکھا اس کی حفاظت کی کہ جب بھی گھروں میں بچے واپس آتے تھے تو آتے ہی وہ کپڑے بدلتے تھے دوسرے گھر کے کپڑے پہنتے تھے اور روزانہ اپنے کپڑے دھوتے تھے خود اور ان کو لٹکا کر سو کھنے کے لئے پھر وہ نہا کر کھانا کھایا کرتے تھے۔بڑی مشکل عادتیں ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہیں بہت اعلیٰ اور پاکیزہ۔جن لوگوں میں یہ عادتیں اختیار کی جاسکتی ہوں وہ بے شک کریں لیکن کم سے کم معیار سے نہیں گرنا ، یہ تو ساری جماعت پر فرض ہے۔دیکھنے میں صاف ہوں، بولنے میں ان کے صفائی ہوان کی عادات میں ان کے مزاج میں صفائی ہو ، گھر اچھے اور پاکیزہ ہوں۔لیکن ایک آخری تنبیہ میں ضرور کروں گا کہ گھروں کی صفائی کے نتیجے میں گلیاں نہ گندی کریں اس کا آپ کو حق نہیں ہے، یہ اچھی عادت کی بجائے ایک بری عادت کا مظہر بات ہے۔بعض ہمارے پاکستان میں ایسے قصبے ہیں جن کے اندر گھروں کی صفائی کا معیار بہت بلند ہے ، شیشے کی طرح چمک رہے ہوتے ہیں اور گلیاں اتنی گندی که بد بوئیں اور غلاظتیں ان کی نالیوں میں بہتی اور ہر چیز گندی باہر سڑکوں پر پھینکی ہوئی۔وہ لوگ بیچارے جن کے جسم پر خارش، وہ گلیوں میں جہاں جہاں بیٹھیں گے وہ خارش کرتے ہوئے آپ کو دکھائی دیں گے کسی کو آدھی جلد میں کسی کو پوری جلد میں بال اڑے ہوئے۔نہایت مکروہ منظر ان کی گلیاں پیش کرتی ہیں۔اسی لئے بیماریاں بھی بہت زیادہ ہیں وہاں لکھی بھی ہے ، گند بھی ہے لیکن قومی