خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 527 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 527

خطبات طاہر جلد ۶ 527 خطبه جمعه ۱۷ اگست ۱۹۸۷ء دو قسم کے اچھے کپڑے پہنے والے باہر نکلتے ہیں۔ایک وہ جو کپڑے پہنے ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کپڑوں میں گرفتار ہو گئے ہیں، کپڑوں کے غلام بن گئے ہیں۔کپڑے ان پر سوار ہیں بجائے اس کے کہ انہوں نے اپنی ضرورت کے لئے کپڑے پہنے ہوں۔کریز کا دماغ میں ایسا خیال ہوتا ہے کہ بیٹھتے ہیں تو بہت ہی احتیاط کے ساتھ ، تیزی سے حرکت نہیں کریں گے کہ ان کے کپڑوں کی سلوٹ میں فرق نہ پڑ جائے ،معمولی ساکسی بے چارے کا ہاتھ لگ جائے میلا تو جھٹکتے ہیں اس کونفرت کے ساتھ۔چھوٹا بچہ کبھی پیار کے ساتھ ان کے پاس آجائے ہاتھ لگا لے تو ان کے چہرے کی آپ تیوریاں دیکھیں۔وہ اتنے بھی اخلاق نہیں باقی رہتے کہ چھوٹے بچے نے غلطی سے ہاتھ لگایا ہے اس سے غصہ کا اظہار نہ کریں۔یہ ساری باتیں تکبر کے پس منظر کی نشاندہی کرتی ہیں۔نماز پڑھنی ان کے لئے مشکل ہو جاتی ہے سجدے میں جاتے ہیں تو ہر وقت یہ دھیان کے میری شلوار یا میری پتلون کی سلوٹیں خراب نہ ہو جائیں۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺہ اتنی باریک نظر سے اپنے غلاموں کو دیکھا کرتے تھے اور ایسی باریک نظر سے تربیت فرمایا کرتے تھے۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ جب سجدے کے لئے جانے لگو تو اپنے کپڑے نہ سمیٹا کرو۔(بخاری کتاب الاذان حدیث نمبر: ۷۷۴ ) دو شکلیں ہیں کپڑے سمیٹنے کی۔ایک تو یہ کہ وہ رکاوٹ پیدا کرتا ہو۔یہ مراد نہیں ہے کہ اس رکاوٹ کو دور نہ کرو کیونکہ اس سے توجہ بٹتی ہے ، مراد یہ ہے کہ توجہ کپڑوں کی طرف نہ کیا کرو۔ان دو چیزوں میں ایک بڑا نمایاں فرق ہے۔اگر ایک شخص کپڑوں کی طرف توجہ رکھنے کی وجہ سے سمیٹتا ہے تو وہ آنحضرت ﷺ کی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔اگر ایک شخص اس لئے سمیٹتا ہے کہ کہیں کپڑوں کی طرف توجہ نہ رہے کہیں پھنسا ہوا ہے کہیں ایسی مشکل پیدا کر رہا ہے کہ سجدے میں توجہ قائم نہیں ہوتی اور دماغ میں یہی بات رہتی ہے کہ فلاں جگہ میری شلوار اس طرح اٹک گئی ہے کہ مجھے تکلیف پہنچارہی ہے، یا میری پتلون اس طرح انکی ہوئی ہے کہ مجھے تکلیف پہنچا رہی ہے۔ایسے موقع پر اس تکلیف کو دور کرنا توجہ خدا کی طرف مبذول کروانے کی خاطر، یہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے منافی نہیں ہے۔پس آپ نے جب یہ فرمایا کہ تکبر حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے تو ساتھ ہی ایک ہی قسم کالباس پہننے والوں کے اندر بھی ایک تفریق کا سامان پیدا فرما دیا۔بعینہ ایک ہی طرح کا لباس پہننے