خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 528 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 528

خطبات طاہر جلد ۶ 528 خطبه جمعه ۷ / اگست ۱۹۸۷ء والے دو آدمی آپ کو مل سکتے ہیں جن میں ایک تکبر کے نتیجے میں پہن رہا ہو اور ایک اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے لئے زینت کا سامان پیدا فرمایا ہے اور خدا تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ صاف ستھرا ہو۔اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے اور ایک شخص جب باہر نکلتا ہے تو جس کے کپڑے اس سے کمزور ہوں ، اس سے خراب ہوں وہ ان کو اس نظر سے دیکھ رہا ہوتا ہے کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ، اس کا تو سوٹ پتا نہیں کہاں سے سلوایا ہوا ہے پاگل نے ، جس درزی سے سلوایا ہے اس کو سوٹ سینا ہی نہیں آتا۔ٹائی کا رنگ دیکھ لو قمیض کے ساتھ میچ نہیں کر رہا، جرا ہیں اس کے سوٹ کے ساتھ میچ نہیں کر رہیں اس کی نظر ہر وقت اسی دھیان میں پڑی رہتی ہے کہ فلاں کے کپڑے ایسے ہیں ، فلاں کے کپڑے ایسے ہیں اور اپنے کپڑوں کے متعلق یہ احساس برتری کہ دیکھو میرے کیسے عمدہ کپڑے ہیں۔اس معاملے میں ہماری خواتین کی بہت تربیت کی ضرورت ہے۔چنانچہ جب وہ مجالس میں جاتی ہیں تو واپس آکر اکثر ان کی گفتگو یہی ہوتی ہے کہ فلاں کے کپڑے دیکھے تھے کیسے تھے، فلاں کے کیسے تھے، فلاں کے کیسے تھے۔اس مضمون میں ایک تو دلچسپی اس رنگ میں بھی ہوسکتی ہے طبعی طور پر کہ کسی کے اچھے کپڑے پسند آئے ہوں اور باتیں ہو گئی ہوں لیکن اس سے بڑھ کر بات اس مضمون پر اکثر چلتی ہے کہ کیسا بے ڈھنگا جوڑا پہنچا ہوا تھا اس نے ، اس کے تو رنگوں کا ہی نہیں پتا، اس کا جو کام تھا وہ اس قسم کا تھا، اس کی بناوٹ بے ڈھب تھی۔اس قسم کی باتیں کر کے تو وہ لطف اٹھاتی ہیں اور لطف اٹھانے کے ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کی اس تعریف کی زد میں آجاتی ہیں کہ تکبر تو لوگوں کو حقیر جاننا ہے، اچھے کپڑے پہنا تو نہیں۔ان کے اچھے کپڑے جمال کی حد سے نکل کر ایک مکروہ دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔وہ جس طرح خدا کے بندوں کو تحقیر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں ایسے لوگ اپنے اچھے کپڑوں کی وجہ سے ان کے کپڑوں پر خدا کی تحقیر کی نظر پڑ رہی ہوتی ہے، یہ متکبر لوگ ہیں ان کے کپڑوں کی کوئی حیثیت نہیں۔تو ایک ہی جیسے کپڑوں میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی فراست نے کتنا نمایاں فرق کر کے دکھا دیا۔ایسے بے ساختہ آپ جواب دیا کرتے تھے اور اتنی گہرائی ہوتی تھی اس میں کہ جب ہم اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو عاشق ہو جاتا ہے دل اس عظیم الشان وجود پر۔چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں حیرت انگیز باریکی کے ساتھ آپ کی نظر تمام ان محرکات پر پڑتی تھی جو نیتوں کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں۔