خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 526
خطبات طاہر جلد ۶ 526 خطبہ جمعہ۷/اگست ۱۹۸۷ء قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس پہلو سے احمدی کے گھر کی صفائی بھی اس کے ایمان کے ان فرائض میں داخل ہو جاتی ہے جو ایمان نے اس پر عائد کی ہے اور تمام دنیا کے احمدی کے گھر کی صفائی اسلام سے حاصل کردہ تعلیم کے مطابق ہونی چاہئے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ گھروں کی صفائی بھی امت واحدہ پیدا کرنے میں بہت حد تک ممد اور معاون ثابت ہو سکتی ہے۔اگر اس تعلیم پر تمام احمدی دین کا حصہ سمجھتے ہوئے عمل کریں تو ساری دنیا میں خواہ غریب گھر ہوں یا امیر گھر ہوں ،غریب ملکوں کے گھر ہوں یا امیر ملکوں کے گھر ہوں وہاں صفائی کو وہ معیار ضرور قائم ہو سکتا ہے جو اسلام نے عائد کیا ہے کیونکہ اسلام نے جو بھی صفائی ضروری قرار دی اس پر پیسہ نہیں لگتا۔اُس پر توجہ درکار ہوتی ہے۔ایک صفائی والے مزاج کی ضرورت ہے، غیر معمولی یا معمولی بھی خرچ کی ضرورت نہیں ، ادنیٰ سے ادنی غریب انسان یعنی مالی نقطہ نگاہ سے جسے ہم ادنی کہہ سکتے ہیں اور اعلیٰ سے اعلیٰ امیر ترین انسان بھی اسلامی صفائی کی تعلیم میں برابر ہو سکتے ہیں۔یہ بھی اسلامی مساوات کا ایک عجیب حصہ صلى الله پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جو صفائی کی تعلیم دی اس کو ہمارے گھروں میں بھی منعکس ہونا چاہئے۔آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو بھی خوب کھول دیا ہے کہ صاف ستھرا رہنا ، دیدہ زیب لباس اختیار کرنا اور عموماً اچھا نظیف انسان بن کر معاشرے میں ظاہر ہونا اس کا براہ راست کبر سے تعلق نہیں ہے۔کبر کا مضمون اور ہے اور صفائی کا مضمون اور ہے۔اچھے کپڑے پہنا کبر کی نشانی نہیں ہے۔چنانچہ ایک موقع پر حضرت عبداللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا و شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی کبر پایا جاتا ہو۔سننے والوں میں سے ایک کے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ بعض لوگ اچھے کپڑے پہن کر نکلتے ہیں سج دھج کر باہر آتے ہیں کہیں یہ تو نہیں کہ نعوذ باللہ وہ بھی جہنم میں چلے جائیں گے کیونکہ وہ اچھے کپڑے پہنتے ہیں اور ان کے دوسرے بھائیوں سے نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے معین طور پر یہ سوال کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ انسان چاہتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اس کا جوتا اچھا ہو۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔تکبر تو حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر: ۱۳۱) ایسی حیرت انگیز صفائی کے ساتھ آپ نے تکبر کا تجزیہ کر دیا ہے کہ اس کے بعد کسی کے لئے کسی غلط فہمی کا امکان ہی باقی نہیں رہنا چاہئے۔