خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 49

خطبات طاہر جلد ۶ 49 49 خطبہ جمعہ ۲۳ جنوری ۱۹۸۷ء پر نظر پڑتی ہے ہر جہت سے تو اس وقت انسان کا وجود سکڑتے سکڑتے ایک ذرہ بے محض رہ جاتا ہے جس کی طاقت میں کچھ بھی نہ ہو کیونکہ جب کام زیادہ ہوں تو اس کی نسبت سے اپنا وجود چھوٹا دکھائی دینے لگتا ہے اور زیادہ کام ہوں تو اپنا وجود اور چھوٹا دکھائی دینے لگتا ہے۔یہاں تک کہ جب میں کاموں پر غور کرتا ہوں تو ساری جماعت احمد یہ جو اس وقت کل عالم میں پھیلی پڑی ہے وہ سمٹتے سمٹتے میرے وجود سمیت ایک نقطہ لاشئی دکھائی دیتی ہے جسے اللہ تعالیٰ کے براہ راست تسلط اور تقدیر کے بغیر دنیا میں وہ کام کرنے کی توفیق نہیں مل سکتی جس کا ارادہ لے کے ہم اٹھیں ہیں۔اس پہلو سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمارا وجود لاشئی تک پہنچ کر نظر سے غائب ہونے لگتا ہے اور جب ایک اور پہلو سے دیکھتے ہیں تو اسی وجود کا کل عالم پر محیط ہو جانا ایک تقدیر مبرم دکھائی دیتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ جس ذرہ لاشئی کو چن لیتا ہے کہ وہ غالب آئے اور وہ پھیلے تو اس کا کل عالم پر محیط ہونا ایک ایسی تقدیر ہے جو دنیا کی کسی قوت میں ، طاقت میں نہیں ہے کہ وہ اسے بدل سکے یا اس کی راہ میں روک ڈال سکے۔پس جہاں یہ خور ہمیں انکسار سکھاتا ہے وہاں اس انکسار کو مزید غور ایک عظیم اور نئی طاقت بھی بخشتا ہے اور وہ طاقت ہمارے وجود کی طاقت نہیں بلکہ خدا کے وجود کی طاقت ہے اور اسی میں ہماری ساری ترقی کا راز ہے۔اس موازنے میں ہی وہ ہماری زندگی کا فلسفہ اور ہمارے غلبہ کا فلسفہ ہے۔جب تک احمدی اپنے وجود کو انکسار کی حالت میں دیکھتے ہوئے لاشئی نہ سمجھنے لگے اور اس خلا کو جو اس کے وجود کے غائب ہونے سے پیدا ہوا ہے اسے خدا کی طاقت سے نہ بھر لے اس وقت تک وہ غلبہ جو ہمارے ذریعے مقدر ہے وہ منصہ شہود پر ابھر نہیں سکتا۔وہ خواب کی دنیا میں رہے گا وہ حقیقت نہیں بن سکتا۔انفرادی طور پر بھی یہ ضروری ہے اور اجتماعی کوششوں میں بھی یہ ضروری ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں کچی دعا پیدا ہوتی ہے۔جب ایک انسان اپنے آپ کو لاشئی سمجھتا ہے اور جس مقصد کی خاطر اس نے کام کرنا ہے وہ سارا خدا کا مقصد ہے تو خدا اس کے وجود کو اپنے وجود سے بھرتا ہے۔اس کے سب ارادوں میں خدا داخل ہونے لگ جاتا ہے۔اس کی ہر کوشش میں خدا شامل ہو جاتا ہے اور پھر اس انکساری کے نتیجے میں دعا پیدا ہوتی ہے اور دعا بھی ایسی کہ جس میں سب کچھ خدا پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔اگر انسان اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہومثلاً کچھ لوگ موٹر کو دھکا لگا رہے ہیں وہ نکل نہیں رہی تو وہ سمجھتے تو یہی ہیں کہ تھوڑے سے زور کی اور ضرورت ہے ایک مسافر ایک راہ گیرا گر شامل ہو جائے تو وہ تھوڑا سا زور