خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 48

خطبات طاہر جلد ۶ 48 خطبہ جمعہ ۲۳ / جنوری ۱۹۸۷ء پہلو سے میں سمجھتا ہوں اور کامل یقین رکھتا ہوں کہ یہاں جس غلبہ کی پیشگوئی فرمائی گئی ہے، وہ صرف دین کا غلبہ نہیں بلکہ محمد مصطفی ﷺ کا غلبہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دین بے رسول کے بے حقیقت اور بے معنی چیز ہے۔وہی دین آج بھی ہے لیکن رسول نہ ہونے کی وجہ سے اس کی مختلف شکلیں بنادی گئی مختلف جہتوں سے اسکو دیکھا گیا اور ہر جہت سے وہ مختلف نظر آنے لگا۔وہ ظاہر موجود ہے لیکن اس کی روح اٹھ گئی ہے۔اس لئے دین کے ساتھ رسول کا ایک بہت ہی گہرا تعلق ہوتا ہے اور رسالت کے بغیر حقیقی دین دنیا میں نافذ ہو ہی نہیں سکتا اور جب دین بگڑے تبھی رسالت کے اعادہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ اس آیت میں اسلام کے غلبہ کی پیشگوئی فرمائی گئی ہے تو مراد محض اسلام نام کے غلبہ سے نہیں بلکہ اس اسلام کی پیشگوئی فرمائی گئی ہے جس کے مظہر اتم اور مظہر کامل اصلى الله حضرت اقدس محمد مصطفی اے تھے ، جن کے غلبہ کے بغیر محض دین کا غلبہ کو ئی بھی حقیقت اور کوئی بھی معنی نہیں رکھتا۔دین اسلام کا غلبہ اگرمحمد مصطفیٰ کا غلبہ ہے یعنی آپ کی سنت کا غلبہ ہے ، اس دین کا غلبہ ہے جسے آپ نے سمجھا، اور جسے آپ نے نافذ فرمایا تو پھر اس غلبہ کی قیمت خدا کی نظر میں ہے ورنہ اس غلبہ کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔جماعت احمدیہ کا یہ دعویٰ ہے اور سچا ہے کہ اس عظیم الشان غلبہ کی جو پیشگوئی فرمائی گئی ہے اس کے لئے ہم غلامان محمد مصطفی ﷺ کو چنا گیا ہے کہ ہم اس غلبہ کو دنیا میں جاری کر کے دکھا ئیں گے اور اپنی زندگی کے وجود کا ہر حصہ اس غلبہ کی راہ میں لٹا دیں گے، اس غلبہ کی خاطر اپنی ساری طاقتیں صرف کریں گے اور جہاں تک ہم سے ممکن ہوگا انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اس غلبہ کے دن نزدیک تر لانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔اس پہلو سے ہماری غلبہ اسلام کی تیاری کی پہلی صدی تقریباً دوسال تک مکمل ہونے والی ہے اور بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اس تیاری کے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بعض بہت ہی خوبصورت اصطلاحوں کا اضافہ کیا۔ان میں سے ایک اصطلاح یہ تھی کہ پہلی صدی احمدیت کی غلبہ اسلام کی تیاری کی صدی ہے اور اس سے بعد میں آنے والی صدی انشاء اللہ تعالیٰ غلبہ کی صدی ہوگی اور پھر آخری صدی اس غلبہ کی تعمیل کی صدی ہوگی۔اس پہلو سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ان باقی دوسالوں میں ہمارے لئے تیاری کے کام اتنے پڑے ہوئے ہیں کہ وہ ہوش اڑانے والے ہیں۔اتنا کام باقی ہے تیاری کا کہ جب اس