خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 50

خطبات طاہر جلد ۶ 50 60 خطبہ جمعہ ۲۳ / جنوری ۱۹۸۷ء زائد مل جائے گا۔تو وہ مطالبہ وہی کرے گا جس زور کی اس کو ضرورت ہے۔ایک ہاتھ کی طاقت چاہئے تو ایک ہاتھ کو بلائے گا دو ہاتھوں کی طاقت چاہئے تو دو ہاتھوں کو بلائے گالیکن اگر ایک وجود ایسا ہو جو اپنے کو کلیۂ لاشئی اور بے طاقت سمجھتا ہو اس کی دعا سب کچھ کے لئے ہوگی۔اس کی التجا یہ ہوگی کہ مجھے ساری طاقت دو میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔تو طاقت میں جو قوت اور عظمت پیدا ہوتی ہے وہ انکسار کامل سے پیدا ہوتی ہے۔اس لئے غلبہ اسلام کی صدی کی تیاری کے لئے میرا سب سے پہلا پیغام یہ ہے کہ ان معنوں میں اپنے اندر انکسار پیدا کریں اور ان معنوں میں اپنی دعاؤں کا معیار اونچا کرتے چلے جائیں اور دعاؤں کا دائرہ وسیع کرتے چلے جائیں اپنے لئے بھی اور جماعت کے لئے بھی۔ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ سے کامل عرفان کے ساتھ یہ بات عرض کرتے رہیں کہ ہم حقیقت میں کچھ بھی نہیں اور سب کچھ تجھے دینا ہو گا ہر توفیق تجھ سے ہم نے لینی ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ:۵) کے مفہوم کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ دعا کریں جو ایک معراج کی دعا ہے اور اس دعا کو لازمہ بنا لیں۔جو گزشتہ ہم سے کوتاہیاں ہوتی رہی ہیں اور جو آئندہ ہوسکتی ہیں ان سب کے لئے استغفار کی بھی ساتھ ضرورت ہے۔اس پہلو سے ہم جب مختلف جہتوں میں جائزہ لیتے ہیں تو بہت ہی وسیع کام ہے جس کی یاددہانی کی جماعت کو ضرورت پڑتی ہے اور ایک خطبہ میں وہ ساری یاددہانی نہیں ہو سکتی۔آج کے لئے میں نے ایک دو باتیں چینی ہیں جس میں سے اول بات اس وعدے کی یاددہانی ہے جو آپ نے سوسالہ جلسہ سالانہ یا سو سالہ جشن منانے کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی وساطت سے اپنے مولا کے حضور پیش کیا تھا۔بظاہر تو آپ خلفاء کے سامنے وعدے کرتے ہیں مگر حقیقت میں تو اللہ سے وعدہ ہے خلیفہ کی ذات تو اس وعدے کے درمیان میں محض ایک وسیلے کا رنگ رکھتی ہے جہاں مرکزی نقطہ اختیار کر جاتے ہیں جماعت کے وعدے اور ایک اجتماعیت کی شکل میں پھر خدا کے حضور پیش ہوتے ہیں۔ورنہ ہر وعدہ ہما را خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا ہو براہ راست اللہ کے حضور پیش ہور ہا ہوتا ہے۔اس پہلو سے اس وعدے کی یاد دہانی کروانے کی ضرورت پیش آئی ہے کیونکہ جیسا کہ میں مختصراً بیان کروں گا جو کام شروع کئے جاچکے ہیں بہت ہی وسیع کام ہیں اور اب تک ان کے اوپر جو خرچ ہو چکا ہے اس کے بعد مزید اخراجات کی ضرورت ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور جب سال جوبلی منانے کا آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ تو ساری دنیا