خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 497
خطبات طاہر جلد ۶ 497 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء نفسیاتی اور سیاسی پس منظر ہیں جن کے نتیجے میں وہ آمادہ ہو جاتی ہیں طبعا کہ وہ کسی بیرونی آمر جس کو وہ مجھتی ہیں یعنی حکم دینے والا ، در اصل امیر جو ہے وہ تو اپنا حکم نہیں دیتا وہ خدا کا حکم دینے والا ہوتا ہے لیکن اس بار یک فرق کو تو باہر والے لوگ نہیں دیکھ سکتے۔چنانچہ بہر حال وہ اس وجہ سے امیر کو آمر سمجھنے لگ جاتی ہیں اور جب وہ حکمت کے تقاضوں کو چھوڑ کر ان کو بعض احکامات کی پیروی پہ مجبور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بدک جاتی ہیں ، بھاگ جاتی ہیں۔پھر آہستہ آہستہ اس کے فیصلوں کے اوپر کڑی نکتہ چینی شروع ہو جاتی ہے کہ تمہارا یہ فیصلہ غلط ہے وہ فیصلہ غلط ہے۔بہر حال یہ ایک لمبی کہانی ہے اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔میں اس وقت آپ کے سامنے خصوصیت کے ساتھ اب یہ بات رکھنا چاہتا ہوں کہ ہر جگہ افراد کا قصور نہیں ہوا کرتا بعض دفعہ امراء کا بھی قصور ہوتا ہے اور اگر افراد کا قصور ہو بھی تب بھی اس قصور کے زیادہ بھیانک نتیجے امراء کے قصور کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے یہ جو بقیہ عرصہ ہے اگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے اس میں میں امراء کو تنبیہ کرنے کے لئے آج یہ خطبہ دے رہا ہوں، تمام دنیا کے امراء جن کے سپر د جماعتوں کی باگ ڈور کی گئی ہے۔افریقہ کے ممالک میں میرا تجربہ ہے اور میں نے گزشتہ فائلوں کا مطالعہ کر کے بھی دیکھا ہے کہ اگرچہ بظا ہر غلطی کا آغاز ایک بغاوت کی شکل میں بعض افراد سے اور بعض افراد کے گروہوں سے شروع ہوالیکن عملاً اگر امیر متقی ہوتا اور ان کو ان کے حقوق بتاتا اور یہ بتاتا کہ اگر ان کو کوئی تکلیف ہے یا کوئی اختلاف ہے تو اسے کس طرح حل کرنا چاہئے تو ان سے لاعلمی میں وہ حرکتیں سرزد نہ ہوتیں جن کے نتیجے میں وہ جماعت سے باہر نکالے گئے۔اگر امیر کو یہ احساس ہوتا کہ میں تو ان بھیٹروں پر نگران ہوں اور گڈریا ہوں ، بھیڑوں کا مالک نہیں ہوں۔ایک بھی بھیڑر ضائع ہو گئی تو حضرت محمد مصطفی امی ہے جن کی وساطت سے مجھے یہ امارت نصیب ہوئی ہے، جن کی عطا سے کہنا چاہئے مجھے امارت نصیب ہوئی ہے میں ان کے سامنے جوابدہ ہوں اور وہ میرے نگران ہیں اور بالآخر میں خدا کے سامنے جواب دہ ہوں۔اس لئے وہ امیر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے ہر فرد کا درد رکھتا ہے وہ آسانی سے یہ بات ہونے ہی نہیں دیتا کہ کوئی انسان آگ کے کنارے تک پہنچ جائے۔حتی المقدور کوشش کرتا ہے محبت اور پیار سے سمجھا کر کہ کسی طرح ایک ایسا شخص جو غلہ انہی کا شکار