خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 496

خطبات طاہر جلد ۶ 496 خطبہ جمعہ ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۸۷ء لئے جو کفران کا لفظ استعمال فرمایا ہے وہ ناشکری کرنے والے ہیں اور ان لوگوں کو فاسق قرار دیا گیا۔تو بہر حال یہ وہ لوگ ہیں جو پھر اس کنارے سے گر بھی جاتے ہیں لیکن بہت کم ہیں۔پھر بعض گرنے کے بعد جلنے سے پہلے واپس آنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر صورتوں میں جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے مقام پر فائز ہے کہ گنتی کے چند افراد کے سوا جو بہت ہی بدنصیب ہوتے ہیں ، اکثر خدا کے فضل سے کچھ ویسے ہی بچ جاتے ہیں کچھ ٹھو کر میں کھا کر بچ جاتے ہیں، کچھ کنارے سے واپس لوٹ آتے ہیں، کچھ گرنے کے بعد ہاتھ بڑھا کرتے ہیں، اونچا کرتے ہیں کہ ہمیں نکال لو، ہم سے غلطی ہو گئی۔لیکن اور بھی بہت سے اس میں محرکات ہیں اور موجبات ہیں جن کے نتیجے میں جماعت میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔جہاں تک بیرونی جماعتوں کا تعلق ہے تربیت کی کمی ، نظامِ جماعت سے ناواقفیت اور اسی قسم کے اور بہت سے عوامل ہیں۔ابھی کچھ عرصہ ہوا ایک نائجیرین ٹیلی ویژن والے انٹرویو لے رہے تھے انہوں نے جب مجھ سے وہاں کے حالات کے متعلق پوچھا تو وہاں کے حالات میں ایک اور بھی وجہ میرے سامنے آئی جو میں نے ان کے سامنے بیان کی کہ دراصل تم لوگ ایک لمبے عرصے سے عیسائیت اور استعماریت کے درمیان فرق نہ کرنے کی وجہ سے بظاہر ایک پہلو سے ان سے وصول کر رہے تھے اور ایک پہلو سے تم سے سب کچھ چھینا جا رہا تھا۔اب تمہیں ہوش آئی ہے کہ ہمارے ساتھ کچھ ہو گیا ہے۔بظاہر عیسائیت کے نام پر ہمیں نعمتیں دینے آئے تھے لیکن روحانی نعمتیں دینے کے بہانے ہماری ساری جسمانی دولتیں لوٹ کے چلے گئے۔اس لئے تم ہر آنے والے کو ، باہر سے آنے والے کو اب شک کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئے ہو لیکن تم یہ فرق نہیں کرتے کہ جماعت احمد یہ ستر سال سے تمہارے ملکوں میں کام کر رہی ہے لیکن اس ستر سال میں ایک آنہ بھی تمہارے ملک سے باہر لے کے نہیں گئی۔وہ صرف روحانیت دینے نہیں آئی بلکہ جسمانی لحاظ سے بھی تمہاری حالت بہتر بنانے آئی ہے اور باہر سے روپیہ تمہارے ملکوں میں پھینک رہی ہے۔تو کم سے کم اتنی ہوش تو کرو کہ کسی اور سے سزا پا کر اس کی سزا ہمیں نہ دو۔پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ گدھے سے گرا اور کمہار کو مارنا شروع کر دیا۔جس گدھے سے گرے ہو اس کو بے شک مارو لیکن ہم تو وہ نہیں ہیں۔بہر حال وہ بات سمجھ گئے اور وہ پوری طرح مطمئن ہو گئے اصل صورتحال ان کو معلوم ہو گئی۔تو بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض قوموں میں بعض