خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 498 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 498

خطبات طاہر جلد ۶ 498 خطبہ جمعہ ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۸۷ء ہوتا چلا جا رہا ہے یا انانیت کا شکار ہو رہا ہے ، اس کی اصلاح کرے، اس سے محبت اور پیار کا سلوک کرے، اسے سمجھائے اور بالعموم ایسے امراء جو در درکھتے ہیں جماعت کا جو برداشت نہیں کر سکتے کہ ایک احمدی بھی ضائع ہو ان کے ہاں اتحاد کی اور شکل ہوتی ہے اور وہ امراء جو بے حس ہوں اس معاملے میں ان کے ہاں اتحاد کی اور شکل ہوتی ہے۔پھر امیر اور عام صدر میں ایک فرق ہے۔عموما صدر تو لوگ خود بناتے ہیں لیکن امیر مقرر کیا جاتا ہے۔اس لئے اگر صدر غلطی کرے تو لوگوں کے انتخاب کی وجہ سے وہ اس کی ذمہ داری چھوٹی ہوتی ہے۔اس نے گویا ان کے انتخاب کو جھوٹا کر دکھایا لیکن جب امیر غلطی کرتا ہے تو وہ خلیفہ وقت کا نمائندہ ہوتا ہے۔وہ خلیفہ وقت کے اعتماد کو ٹھوکر لگاتا ہے اور اس کی غلطی کے نتیجے میں جو گناہ سرزد ہوتا ہے وہ اس معاملے میں بہت زیادہ باز پرس کا اہل ہوتا ہے بنسبت ایک عام صدر کی غلطی کے۔کا پھر امیر بھی دو قسم کے ہیں۔ایک وہ امیر ہیں جن کو لوگ منتخب کرتے ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ہمارا مشورہ ہے چاہیں تو قبول کریں چاہیں تو نہ قبول کریں۔آپ جس کو چاہیں مقرر کر دیں گے ہم اسے قبول کریں گے لیکن آپ نے مشورہ مانگا ہے تو ہم یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس کو یا اس کو یا دو تین آدمیوں کے نام لیتے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کو منتخب کر لو۔آخر وہ انتخاب خلیفہ وقت کا ہی ہوتا ہے لیکن اس میں ایک حصہ لوگوں کے مشورے کا بھی شامل ہو جاتا ہے لیکن بعض امراء ایسے ہیں جو سلسلے کے کارکن جو غیر ملکوں میں جا کر امیر بنائے جاتے ہیں، ان کی امارت میں مقامی لوگوں کی مرضی کا کوئی بھی دخل نہیں ہوتا۔کلیہ باہر سے ہی ان کو حکم ملتا ہے۔اب ایسی حالت میں آپ اندازہ کریں کہ ان جماعتوں کے اخلاص کا کیا حال ہو گا جن کے اندر عام دنیا میں یہ خیالات بیدار ہوتے چلے جارہے ہیں اور باہر سے متفرق حرکات ان کو اور حوصلہ دے رہی ہیں کہ غیر قوموں کی اطاعت سے باہر نکلو۔ہر شخص جو باہر سے آتا ہے وہ چور ہوتا ہے، ہر وہ شخص جو باہر سے آتا ہے وہ تم پر حکومت جتانا چاہتا ہے۔اس کے باوجود وہ ایسے امیر سے بالعموم بہت تعاون کرتے ہیں اور ایسے امیر کی اطاعت کرتے ہیں اس کا ہر حکم مانتے ہیں۔ان کے اخلاص کا اندازہ کریں اور پھر ایک ایسے امیر کا تصور باندھیں جو اس اخلاص کے باوجود ان کو ہاتھ سے کھوتا چلا جاتا ہے اور اپنے اعتماد کو بار بار ٹھوکر لگا تا ہے۔اپنی امارت جتانے کا اس کو زیادہ شوق ہوتا ہے بنسبت اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت