خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 479
خطبات طاہر جلد ۶ 479 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۸۷ء لئے جب آپ کی نگرانی کی جائے تو آپ کو شکوے کا کوئی حق نہیں۔قرآن کریم کا حکم ہے، سنت محمد مصطفی ﷺ ہے اور یہ تعلیم کئی رنگ میں کھولی گئی ہے قرآن کریم میں۔اس لئے جن کی نگرانی کی جاتی ہے وہ نصیحت کرنے والے کی نصیحت پر نہ بد کیں ، نہ اس پہ ناراض ہوں کیونکہ نصیحت کرنے والا مجبور ہے۔خدا نے اسے نگران بنایا ہے اور تمام بنی نوع انسان پر ہے، اس میں آپ بھی شامل ہیں اور خصوصا آنحضرت ﷺ کی نمائندگی میں تو ہر مسلمان کا فرض ہے۔پھر آپ اگر نگرانی اس کی کرتے ہیں تو اس کو شکوے کا کوئی حق نہیں اگر وہ نصیحت میں بے وقوفی سے کام لیتا ہے تلخی سے کام لیتا ہے جو حسن خلق کے تقاضے ہیں ان پر پورا نہیں اتر تا تو جن کو نصیحت کی جارہی ہے ان کا کام ہے طعن کی بجائے پیار اور محبت اور ادب کے ساتھ اس کو سمجھائیں کہ نصیحت یوں نہیں یوں کرنی چاہئے۔اگر آپ اس طرح کریں تو اور بھی زیادہ آپ کی بات میں حسن پیدا ہو جائے گا اور بھی زیادہ آپ کی بات میں وزن پیدا ہو جائے گا، دل سے نکالیں بات کو تا کہ دل میں اترے۔اس قسم کی چند باتیں اگر آپ جواباً کہیں تو قرآن کریم اس کا بھی آپ کو حق دیتا ہے۔تو یہ معاشرہ جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ سے ورثے میں پایا یہ ان قوموں کی امانت ہے، ان تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔اس لئے اس جلسہ سالانہ پر اگر چہ یہ عالمی جلسہ نہیں ہے جماعت کا لیکن چونکہ خلیفہ وقت یہاں موجود ہے اس لئے اس کو ایک رنگ میں عالمی حیثیت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔UK کے جلسے پر کہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آیا کرتے تھے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا تھا، کسی کے علم میں بھی نہیں ہوا کرتا تھا کہ UK کا جلسہ ہوتا بھی ہے کہ نہیں لیکن اب آپ دیکھیں کہ ساری دنیا سے کھچے کھچے چلے آتے ہیں لوگ اور بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کہ بڑی بڑی قربانیاں کر کے پیسے جوڑ جوڑ کے ، دعائیں کر کر کے بعض اپنی چیزیں بیچ دیتے ہیں یہاں پہنچنے کے لئے۔اس لئے اس جلسے کو ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔اس پہلو سے بھی ان روایات کو یہاں زندہ کرنا ضروری ہے کہ آنے والے آپ سے توقع بھی یہ رکھیں گے۔جو تشنگی لے کے چلیں گے وہ پوری ہونی چاہئے اور یہاں کی جماعت کو خدا نے توفیق بخشی ہے کہ غیر معمولی بوجھ اٹھایا ہے اس جماعت نے اور بڑی عمدگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا ہے اور نبھاتی چلی جارہی ہے بغیر