خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 478 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 478

خطبات طاہر جلد ۶ 478 خطبہ جمعہ ۷ ارجولائی ۱۹۸۷ء کریں گے۔عرب میں بہت سے آنے والے اس دفعہ خدا کے فضل سے یورپ سے بھی اور عرب ممالک سے بھی ان کو بھی کام میں شامل کرنا چاہئے محض مہمان بنا کر نہ ان کو رکھا جائے۔جماعت میں تو یہ شخص واضح طور پر الگ الگ کرنا ممکن ہی نہیں ہے کہ میزبان کون ہے اور مہمان کون۔ایک پہلو سے ہم سارے میزبان ہیں، ایک پہلو سے ہم سارے مہمان ہیں، ایک پہلو سے ہم وہ ہیں جن کی نگرانی ہو رہی ہے ، ایک پہلو سے ہم وہ ہیں جنہیں نگران بنایا گیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے :۔تَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (الحج: ۷۹) تاکہ تم سارے تمام بنی نوع کے اوپر گران بن جاؤ اور تم سب پر اللہ کا رسول نگران بنادیا گیا ہے اور اللہ کا رسول براہ راست خدا کی نگرانی کے تابع ہے۔یہ ہے مضمون جو نیچے سے شروع ہو کر اوپر تک پہنچتا ہے۔امت محمدیہ ایک پہلو سے نگران بھی ہے اور ایک پہلو سے وہ بھی ہے جس کی نگرانی کی جارہی ہے۔نگران ہے وہ غیروں پر اور اس کی نگرانی حضرت محمد مصطفی امی ﷺ اور آپ کی تعلیم کر رہی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کوئی رات تم پر یہ گواہی نہ دے کہ تم نے فلاں فلاں حکم کی خلاف ورزی کی اور قرآن تم پر گواہی نہ دے اور سنت تم پر گواہی نہ دے۔یہ محاورے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رائج کئے ہیں اسلامی علم کلام میں کہ قرآن گواہی دے اور حدیث گواہی دے، قرآن گواہی نہ دے اور حدیث گواہی نہ دے یعنی محاورے تو پہلے بھی اس طرح آئے ہیں لیکن جس شان کے ساتھ اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے باندھا ہے اور کسی بزرگ کی تحریروں میں آپ کو یہ نہیں ملے گا۔پس یہی وہ مضمون ہے ایک پہلو سے ہم سب نگران ہیں اور ایک پہلو سے جب ہم علی النَّاسِ کہتے ہیں یا للناس کہتے ہیں تو ہر مسلمان دوسرے مسلمان کی نگرانی میں بھی آجاتا ہے اور اس نگرانی کے لحاظ سے وہ آنحضرت ﷺ کا نمائندہ اور آپ کا امین بنتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی شہادت کی قائم مقامی کر رہا ہوتا ہے۔اس پہلو سے نگران بنتا ہے کہ کوئی سنت پر عمل کر رہا ہے کہ نہیں ، کوئی قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر رہا ہے کہ نہیں۔تو آپ سب نگران بن جاتے ہیں اور آپ سب وہ ہیں جن کی نگرانی ہو رہی ہے۔اس