خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 480
خطبات طاہر جلد ۶ 480 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۸۷ء تھکے ہوئے۔تو اس میں اگر اور حسین پہلوؤں کا اضافہ ہو جائے تو آپ کی خدمتیں اور بھی زیادہ قبولیت کا رنگ پا جائیں گی اور بھی زیادہ اللہ تعالیٰ سے انعام پانے کی مستحق قرار دی جائیں گی۔اس لئے اس جلسے کو زیادہ سے زیادہ پہلوؤں سے اور زیادہ سے زیادہ شدت کے ساتھ روایتی، بہترین جماعتی مرکزی جلسوں کا نمائندہ بنانے کی کوشش کریں۔ایک پہلو جس پر جہاں بھی میں منتظم رہا ہوں ہمیشہ زور دیتا رہا ہوں وہ یہ ہے کہ کارکنوں کو دعا کی طرف توجہ دلانا۔جب بھی اس پہلو میں کمی آئے اس کے نتیجے میں انتظام میں بھی اسی حد تک کمی آجاتی ہے، اسی حد تک خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے منتظمین کا کام ہے کہ اپنے شعبے میں ہر جگہ جہاں جہاں ان کے لئے ممکن ہے، جب وقت ملتا ہے پیار کی بات کرنے کا نصیحت کی بات کرنے کا وہ اور امور کے علاوہ دعا کی طرف توجہ دلائیں اور ان کو بتائیں کہ دعا کے نتیجے میں غیر معمولی فرق پڑتا ہے عملاً پڑتا ہے تم پڑتا ہوا دیکھو گے اپنی آنکھوں سے۔اس لئے کوئی فرضی قصہ نہیں ہے یہ سب سے زیادہ ٹھوس حقیقت ہے اس زمانے کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عظیم ترین احسان یہ ہے کہ آپ نے دعا کے مضمون کو دوبارہ زندہ کر دیا۔کہاں دعا کی اتنی باتیں ہوتی ہیں دنیا میں جتنی جماعت احمدیہ میں ہوتی ہیں؟ ملتے ، الگ ہوتے ، خط لکھتے ، خط وصول کرتے ہوئے ہر جگہ دعا کا مضمون آپ کو ملے گا اور احمدیوں کے منہ سے خود بخو دنکلتا ہی رہتا ہے دعا کا کہ دعا کریں، دعا کریں۔بس ایسا محاورہ جاری ہوا ہے اور یہ محاورہ پہلے خدا کے فضل کے ساتھ دوسرے مسلمانوں میں بھی تھا لیکن رفتہ رفتہ اٹھتا جا رہا ہے۔جب قبولیت کی سعادت ان کو نصیب نہیں ہوئی تو اسلام کی دیگر برکتیں بھی آہستہ آہستہ ان سے اٹھ رہی ہیں، اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں کا سایہ ویسا نہیں رہا ان کے اوپر۔آپ دیکھ لیں پاکستانی معاشرہ کس تیزی کے ساتھ بدی کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے تسکین سے محروم ہوتا چلا جا رہا ہے، بے چینیاں بڑھ رہی ہیں۔ان تمام امور کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے ٹھنڈے سائے سے محروم ہورہے ہیں اور انہوں نے وقت کے امام کا انکار کر دیا ہے اس لئے وہ برکتیں جو اسلام کی برکتیں ہیں وہ اب ان پر اس طرح جاری نظر نہیں آتیں جس طرح ایک بچے سعادت مند مسلمان کی ذات میں وہ جاری ہونی چاہئیں۔بہر حال یہ ایک تفصیلی الگ مضمون ہے۔