خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 456 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 456

خطبات طاہر جلد ۶ 456 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۸۷ء ہاں اگر وہ لوگ جو اموال رکھتے ہیں اور اولادیں رکھتے ہیں وہ ایمان لانے والے ہوں اور عملِ صالح کرنے والے ہوں تو اس صورت میں اموال بھی خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور اولادیں بھی خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔دوسرا معنی یہ ہے گا کہ مَنْ آمَنَ میں اولاد شامل ہو جائے اور یہ معنی ہو گا اگر چہ اموال اور اولاد براہِ راست اپنی ذات میں خدا کے نزدیک کوئی بھی اہمیت نہیں رکھتے۔یہ کافی نہیں ہیں تمہیں خدا کے قریب کرنے کے سوائے اس کے کہ اولادیں ایسی ہوں جو تمہاری طرح ایمان لانے والی ہوں اور عملِ صالح اختیار کرنے والی ہوں پھر ان اولا دوں کی قیمت بن جاتی ہے خدا کے حضور اور وہ اولادیں تمہیں ضرور خدا کے قریب کر سکتی ہیں۔یہ دونوں معانی گویا دومنزلیں ہیں مضامین کی جو اس مضمون کو ایک نسل تک محدود نہیں رہنے دیتی اگلی نسل تک پھیلا دیتی ہے۔چنانچہ اس کے جواب میں بھی خدا تعالیٰ نے دو ہی منزلیں بیان فرمائی ہے فَأُولَيْك لَهُمْ جَزَاءُ الضَّعْفِ ان کے لئے دوہرا تہرا اجر ہے بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفْتِ امِنُونَ یہ بالا خانوں والے لوگ ہیں دو منزلہ مکانوں میں رہنے والے۔یہاں دومنزلہ جو اجر ہے اس سے دراصل دو نسلوں کی مسلسل نیکی کی طرف اشارہ ہے۔ماں باپ بھی نیک ہوں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اموال خرچ کرنے والے ہوں اور اولادیں پیش کرنے والے ہوں۔اموال تو ان کی نیکی کی وجہ سے قبول ہو جائیں گے لیکن اولا د میں اس طرح قبول نہیں ہوں گی جب تک اولادیں خود بھی إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وہ خود ایمان لانے والی بنیں اور عمل صالح کرنے والی بنیں تو اوپر تلے دو نسلیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف ہو جائیں گی۔پھر ایسی اولادوں کا اجر ان ماں باپ کو بھی ملے گا جو وقف کی نیت رکھتے تھے ان کو خدا کے حضور پیش کرنا چاہتے تھے یہ اولاد میں ضرور ان کے لئے بھی خدا کے قرب کا ذریعہ بن جائیں گی ، خدا کے پیار کے حصول کا ذریعہ بن جائیں گی لیکن خود اگر وہ بالا رادہ اس میں شامل نہ ہوں ، اپنے نیک اعمال کے ذریعے اپنے دعاوی کو سچا نہ کر دکھا ئیں تو پھر ان کا اجر ان کے ماں باپ کو نہیں مل سکتا۔اسی طرح ماں باپ کو اگر وہ عملِ صالح نہ کرنے والے ہوں یا ایمان نہ لانے والے ہوں۔ان کو نہ اموال کا کوئی اجر مل سکتا ہے نہ اولاد کا کوئی اجر مل سکتا ہے۔یہ دو مضمون ہیں جو کٹھے اس آیت میں بیان فرما دیے گئے۔تبى فأوليك لَهُمْ جَزَاءُ الصّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفْتِ مِنُونَ کا