خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 457 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 457

خطبات طاہر جلد ۶ 457 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۸۷ء مضمون بیان فرما کے دوہری شان بیان کی گئی ہے ایسے لوگوں کی۔اسی کے پیش نظر میں نے یہ تحریک کی تھی کہ آئندہ صدی کے لئے جماعت جہاں اموال کثرت کے ساتھ پیش کر رہی ہے۔اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ اتنی حیرت انگیز مالی قربانی کی روح جماعت میں پیدا ہو چکی ہے کہ بسا اوقات مجھے تحریک کی ضرورت ہی نہیں پڑتی اسی لئے میں نے اب زیادہ ذکر کرنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ مجھے یہ خطرہ رہتا ہے کہ کہیں کچھ لوگ توفیق سے زیادہ نہ تکلیف اٹھا جائیں۔جو کام کرنے ہوتے ہیں ان کے لئے خدا کے نزدیک جتنے روپے کی ضرورت ہے وہ کثرت سے آجاتے ہیں ایک بھی کام گزشتہ چند سالوں کے اندر، مجھے جب سے خدا تعالیٰ نے خلافت پر فائز فرمایا ہے، ایک بھی کام ایسا نہیں ہے جومالی کمی کی وجہ سے رک گیا ہو۔ایک ذہن میں نئی سکیم آتی ہے میں پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے وہ اس کے لئے رقمیں بجھوانی شروع کر دیتا ہے۔بعض دفعہ اعلان سے پہلے ہی خود بخود آنی شروع ہو جاتیں ہیں۔چنانچہ کچھ عرصہ پہلے میرے ذہن میں یہ تھا اور اس کے لئے میں نے نقشے بھی بنوانے شروع کئے تھے کہ اگلی صدی سے پہلے ہم دار الیتامی بھی بنا لیں کیونکہ قرآن کریم میں تیموں کے بہت حقوق بیان ہوئے ہیں اور تحریک میں نے کوئی نہیں کی لیکن ایک صاحب کا مجھے خط آ گیا کہ میری خواہش یہ ہے کہ کم از کم چالیس لاکھ روپیہ دار الیتامی کے لئے پیش کروں۔اس لئے میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جس طرح چاہیں جو چاہیں بنوائیں یہ آپ کی مرضی ہے، یہ جماعتی معاملہ ہے جس طرح چاہے پسند کرے بنائے لیکن یہ میری خواہش ہے کہ دار الیتامی کے لئے استعمال ہو اور اس کے علاوہ بھی پھر کئی ایسی رقمیں آنی شروع ہو گئیں۔جس میں اسی قسم کا اظہار تھا۔ابھی یورپ سے ہی خاتون نے یہ خواہش ظاہر کی کہ مجھے دلی محبت ہے تیموں اور غریب بچوں کے اوپر خرچ کرنے کی اور یہ رقم ہے جو میں آپ کے پاس آپ لئے پیش کرتی ہوں جس طرح چاہیں خرچ کریں۔تو بسا اوقات تحریک کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی اس کثرت سے جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ساتھ مالی قربانی میں آگے بڑھ گئی ہے کہ از خود اچھل رہا ہے جس طرح ماں کی چھاتیوں سے بچے کے لئے دودھ اچھلتا ہے اس طرح اللہ کے دین کے کاموں کے لئے خدا تعالیٰ نے جماعت کی چھاتیوں میں دودھ اتار دیا ہے۔اچھل اچھل کے باہر نکل رہا ہے۔