خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 451 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 451

خطبات طاہر جلد ۶ 451 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۸۷ء رکھتے ہیں۔ایک بندے پر تکبر اور ایک خدا پر تکبر۔بنیادی طور پر اس آیت میں اس تکبر کی تفصیل کے ضمن میں تین باتیں بیان ہوئی اسنتر أمْوَالًا وَاَوْلَادًا وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ مال میں زیادہ ہیں، اولاد میں زیادہ ہیں اور ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ان تینوں باتوں کا جواب ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے جن کی میں نے بعد ازاں تلاوت کی۔پہلے تو یہ فرمایا: قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ تو ان سے کہہ دے کہ یقیناً میرا رب ہی ہے جو رزق کو کشادہ فرماتا ہے اور جس کے لئے چاہے اس کے لئے رزق کشادہ کر دیتا ہے وَيَقْدِرُ اور وہ کم کرنا بھی جانتا ہے۔جس کے لئے چاہے وہ رزق تنگ بھی کر سکتا ہے۔وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ لیکن افسوس کہ اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔یہاں یہ جو آیت کا دوسرا حصہ ہے آخری اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ يه قابل توجه ہے کیونکہ جو لوگ یہ مذہبی مقابلے کرتے ہیں ان میں سے بعض اوقات ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو اصولاً اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ رزق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اللہ تعالیٰ چاہے تو بڑھا دے چاہے تو کم کر دے۔اس کے باوجود یہ جو فرمایا گیا اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مضمون سے غفلت کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔نظریے کے لحاظ سے ہر ایک کو علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں رزق کو بڑھانا بھی ہے اور رزق کو کم کرنا بھی ہے لیکن وہ لوگ جن کے اوپر رزق کشادہ کر دیا جائے ، رزق کی راہیں کھول دی جائیں ان کے اوپر تکبر کی ایسی حالت طاری ہو جاتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ہمارا رزق ہمارا ساتھ دے گا اور آئندہ ہم پر کبھی کوئی برا زمانہ نہیں آئے گا۔چنانچہ لَا يَعْلَمُونَ سے مراد یہ ہے عملاً بیدار مغزی کے ساتھ وہ اس بات کا شعور نہیں رکھتے۔اگر شعور رکھتے تو جس کو خدا تعالیٰ نے رزق میں وسعت عطا فرمائی ہے اس کو کبھی بھی اس بارے میں امن نصیب نہیں ہو سکتا۔ہمیشہ اس کے دل میں ایک عجز کا پہلور ہے گا،