خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 450

خطبات طاہر جلد ۶ 450 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۸۷ء قرآن کریم کی جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے یہ سورہ سبا سے لی گئیں ہیں اور آیت ۳۵ تا ۴۰ کی میں نے آج تلاوت کی ہے۔ان کا ترجمہ یہ ہے کہ جب بھی ہم کوئی نذیر، کوئی ڈرانے والا کسی بستی یا کسی قوم کی طرف بھیجتے ہیں تو ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں سے جو خوشحال لوگ ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ جس چیز کو بھی تم لے کے آئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو خدا نے جو بھی پیغام دیا ہے قطع نظر اس کے کہ وہ کیا پیغام ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں اور ساتھ وہ یہ کہتے ہیں نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَاَوَلَادًا ہم تم سے اموال میں بھی زیادہ ہیں اور اولاد میں بھی زیادہ ہیں یعنی مالی لحاظ سے بھی تم پر فوقیت رکھتے ہیں اور عددی قوت کے لحاظ سے بھی تم پر فوقیت رکھتے ہیں وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ اور ہم عذاب نہیں دیئے جائیں گے۔تین نفسیاتی حالتیں ان کی بیان کی گئیں جن کی بنا پر وہ انکار کرتے ہیں اور اس مضمون کو ساری نبوت کی تاریخ پر پھیلا دیا گیا ہے کہ جب بھی خدا کی طرف سے دنیا میں کہیں بھی کوئی ڈرانے والا آیا ہے اس کے ساتھ یہ سلوک ضرور ہوا ہے۔یہاں اختلافات عقائد کی بحث نہیں اُٹھائی گئی یہ گفتگو ہو رہی ہے کہ کیوں انکار کیا جاتا ہے۔انکار کے نفسیاتی پہلو کو نمایاں فرمایا گیا ہے اور صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انکار کی بنیادی وجہ تکبر ہے اور تکبر دنیا کے لحاظ سے بھی ہے اور آخرت کے لحاظ سے بھی ہے انسان پر بھی بڑے بول بولے جاتے ہیں اور خدا پر بھی بڑے بول بولے جاتے ہیں۔انسان پر تکبر کی یہ مثال ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہم مال میں بڑے ہیں اور تعداد میں زیادہ ہیں اس لئے چھوٹے سے گھٹیا لوگ جن کو نہ مالی برتری حاصل ہے نہ عددی۔ان کا حق کیا ہے کہ ہم ان کے سامنے گردنیں جھکائیں یا ان کی باتیں ماننے لگ جائیں اور خدا پر بھی دو طرح کے تکبر ہیں، اول یہ کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ جس چیز کے ساتھ بھی تمہیں بھیجا گیا ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔یعنی یہ بحث نہیں اُٹھاتے کے کیا چیز ہے جو انکار کے لائق ہے۔اچھی باتوں کا بھی انکار کرتے ہیں بُری باتوں کا بھی انکار کرتے ہیں۔یعنی نہ اس کی پرواہ ہے جس کو بھیجا گیا ہے، نہ اس کی پرواہ ہے جس نے بھیجا ہے اور دوسرا یہ کہ مرنے کے بعد جو معاملہ ہوگا وہ بھی ہم جانتے ہیں کہ جہاں تک ہماری عظمت کا تعلق ہے یہ ظاہر وباہر ہے ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ بھی عذاب نہیں دیا کرتا اور قیامت کے عذاب سے بھی تم ہمیں نہ ڈراؤ ہم یہاں بھی بڑے لوگ ہیں وہاں بھی بڑے لوگ ہی شمار ہوں گے۔دونوں پہلو تکبر