خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 452
خطبات طاہر جلد ۶ 452 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۸۷ء عجز کا پہلو شاملِ حال رہے گا اس کی سوچوں میں، اس کی فکروں میں، اس کے طرز عمل میں۔وہ یہ احساس رکھے گا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رزق عطا فرمایا ہے اور جب چاہے اس رزق کو واپس لے سکتا ہے میرا ذاتی کمال کوئی نہیں۔میری ہوشیاریوں کے نتیجے میں مجھے رزق نہیں ملا بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔اس کے نتیجے میں اس کے اندر بجز پید ہوتا ہے۔ا پس عجز کا فقدان ثابت کرتا ہے کہ اس بات کا کسی کو علم نہیں چنانچہ اس کا قطعی اور طبعی نتیجہ نکالا گیا ہے۔ایک شخص جسے احساس ہو کہ خدا کے فضل کے نتیجے میں مجھے سب کچھ عطا ہوا ہے اس میں پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔چونکہ ان کی باتوں میں تکبر ہے اس لئے اس کا طبعی نتیجہ یہ ہے لَا يَعْلَمُونَ وہ اس بات سے بے خبر ہیں، ان کو پتا ہی نہیں کہ اصل میں مسبب الاسباب کون ہے اور عطا کرنے والا کون ہے اور پھر یہ فرما کر ويَقْدِرُ تنبیہ بھی فرما دی گئی کہ اس سے تو خوب اچھی طرح بے خبر ہیں کہ خدا نے انہیں عطا کیا تھا۔اس بات سے بھی بے خبر ہیں کہ وہ لینا بھی جانتا ہے۔وہ جب چاہے جس قوم کے متعلق فیصلہ کرے اس کے رزق کی راہیں یا وہ تنگ کر دیتا ہے یا بند کر دیتا ہے۔چنانچہ ان کے اس تکبر کا جواب ہے ایک تنبیہ ہے کہ آئندہ تمہارے ساتھ یہ ہونے والا ہے۔جہاں تک رزق کے متعلق تمہارا تکبر کا تعلق ہے آئندہ وقت آئے گا کہ جن کو تم اپنے سے کم سمجھتے ہو خدا تعالیٰ ان کے رزق میں برکت ڈالے گا اور جس رزق کی بنا پر تم تکبر اختیار کر رہے ہو وہ تم سے چھین لیا جائے گا۔پھر فرمایا وَمَا اَمْوَالُكُمْ وَلَا اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَى إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا اور وہ مال اور وہ اولادیں جن کے ذریعے بالتی تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلفی جو تمہیں ہمارے نزدیک ایک قرب کا مقام عطا کر سکتیں ہیں، یہ قرب کا مقام نہیں عطا کریں گی۔کیوں اس کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے یعنی ایسے اموال اور ایسی اولادیں جو یہ اندرونی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ صلاحیت رکھتیں ہیں کہ کسی کو اللہ کا قرب عطا کر دیں۔تمہیں یہ قرب عطا نہیں کریں گی إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور عمل صالح اختیار کریں فَأُولَك لَهُمْ جَزَاء الضّحُفِ یہی وہ لوگ ہیں جن کو دو ہرا دوہرا اجر کا ثواب ملے گا بڑھا چڑھا کر خدا ان کو عطا فرمائے گا بِمَا عَمِلُوا اس وجہ سے کہ جو نیک اعمال وہ بجالاتے رہے وَهُمْ فِي الْغُرُفتِ آمِنُونَ اور وہ بالا خانوں میں نہایت ہی امن کے