خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 442 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 442

خطبات طاہر جلد ۶ 442 خطبہ جمعہ ۳ / جولائی ۱۹۸۷ء کے نتیجے میں ویسے بھی تجارتوں میں روز مرہ کے مالی معاملات میں یکسوئی سے کام نہیں ہوسکتا پھر سینکڑوں ایسے افراد ہیں جن کو کلمہ شہادہ پڑھنے کے جرم میں قید کیا گیا اور ایسی حالت میں وہ قید میں گئے کہ پیچھے ان کی فصلیں اٹھانے والا بھی کوئی نہیں تھا، ان کے کام سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا۔جہاں جہاں جماعت کے بس میں تھا اس نے کوشش کی اور جہاں تک توفیق ملی ان کی مدد بھی کی گئی لیکن پھر ان کے اپنے کاموں کو نقصان پہنچا جنہوں نے دوسری طرف توجہ دی تو اس لحاظ سے جماعت احمد یہ پاکستان کے لئے یہ غیر معمولی آزمائش کا سال تھا۔ایک اور پہلو سے اس لئے بھی کہ اگر چہ جو بلی کے چندے میں بیرون پاکستان اور اندرونِ پاکستان اس سال کے آغاز پر کم و بیش ادائیگی کی ایک ہی نسبت تھی یعنی اگر پاکستان میں ساٹھ فیصد کل چندے کی ادائیگی ہوئی تھی تو بیرونِ پاکستان بھی کم و بیش ایک دو فیصد کے فرق سے یہی تناسب تھا لیکن بیرون پاکستان اس چندے کی ادائیگی کی طرف پاکستان کے مقابل پر بہت کم توجہ دی گئی یہاں تک کہ پاکستان اس سال کی ادائیگی میں تمام دنیا کی تمام جماعتوں سے آگے بڑھ گیا ہے۔تو اس خیال سے کئی مالی نظام سے تعلق رکھنے والے مجھے دعا کے لئے بھی لکھتے رہے خاص طور پر ناظر صاحب بیت المال۔اس دفعہ تو ان کی آواز میں کوئی ضرورت سے زیادہ ہی بیقراری آگئی تھی۔ہمیشہ وہ مجھے سال کے اختتام سے چند مہینے پہلے اس نیت سے پریشان کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ دعاؤں کی طرف توجہ ہو اور ہر دفعہ ڈراتے ہیں کہ اس دفعہ کچھ زیادہ ہی صورتحال خراب ہے۔مگر اس دفعہ ان کی آواز میں واقعی خوف تھا۔پہلے تو نظر آجاتا تھا کہ صرف دعا کی تحریک کی خاطر کہہ رہے ہیں لیکن اس دفعہ کے جوان کے خطوط تھے ان میں تو Panic آگئی تھی اور واقعی بات ہی ایسی تھی کیونکہ بعض چندے مختلف قسم کے ہیں ان میں سے بعض چندے گزشتہ سالوں کی نسبت سے بہت ہی پیچھے رہ گئے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک دو مہینے کے اندراب ناممکن ہو جائے گا کہ یہ چندے ادا ہوں۔بہر حال جن جن دوستوں نے مجھے یہ توجہ دلائی ان کو میں نے یہی لکھا کہ اس دفعہ بھی ہو جائے گا جو تم سمجھتے ہو کہ نہیں ہو گا۔وجہ یہ ہے کہ پہلے بھی انسانی کوششوں سے نہیں ہوتا رہا۔پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت اور تائید سے ہی ایسا ہوا ہے۔اگر ہم یہ سمجھیں کہ ہماری کوششوں سے سب کچھ ہورہا ہے تو دنیا میں اتنا عظیم مالی نظام چلانا اتنی غریب جماعت کے لئے اور پھر ہر سال قدم آگے