خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 401
خطبات طاہر جلد ۶ 401 خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۸۷ء برکتیں ہیں دعاؤں میں۔دعاؤں کی طرف توجہ کریں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دعا میں خلوص کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔زبان کی دعا یا صرف مصیبت میں گھرے ہوئے انسان کی دعا ایک وقتی اثر دکھاتی ہے لیکن وہ دعا جومستقل تعلق باللہ کے نتیجے میں عطا ہوتی ہے ، جومستقل تعلق باللہ کا مظہر بن جایا کرتی ہے ، ہر بات میں عادت پڑ جاتی ہے بلانے کی، وہ دعا سیکھیں ، اس دعا کی عادت ڈالیں پھر دیکھیں کہ آپ کی زندگی میں کتنی حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔کئی لوگ مجھے اپنے عزیزوں کی وفات کے بعد یہ لکھتے ہیں ، آج بھی ایک اسی قسم کا خط ملا کہ میری بیوی بہت ہی پیاری تھی فوت ہو گئی اس کی عادت پڑ گئی تھی۔بات بات پر اس کی طرف جھکنا بات بات پر اس کو آواز دینا اور اب اس کی جدائی سے اس وجہ سے بہت ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے بہت ہی خلا محسوس ہوتا ہے۔لیکن آپ کو میں جس وجود کی عادت ڈالنے کے لئے کہ رہا ہوں وہ تو دائی وجود ہے اس کا کبھی آپ کو خلا محسوس نہیں ہوگا۔ایسی عادت ڈالیں کہ جس عادت کا ہر حال میں ہمیشہ پورا ہوتے رہنا ممکن ہے۔کبھی ممکن ہی نہیں کہ یہ عادت آپ سے بے وفائی کرے یا وہ وجود آپ سے بے وفائی کرے اور یقین جانیں کہ دعا آپ کے اعمال کے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کے لئے حیرت انگیز اثر دکھائے گی اور دعا کے نتیجے میں آپ کے سارے مشکل کام آسان ہو جائیں گے لیکن جب دعا کریں تو بلند حوصلہ رکھ کے دعا کریں، بلند ارادوں کے ساتھ دعا کریں محض Asylum کے لئے دعا کرنایا محض چھوٹی موٹی مشکلات کے لئے یا بیوی بچوں کی بیماری کے لئے دعا کرنا یہ تو بڑے وجود سے بہت ہی ادنی اردنی باتیں مانگ کر انہیں پر راضی ہو رہنے والی بات ہے۔جس سے مانگ رہے ہیں اس کو ملحوظ رکھ کے حوصلے کی دعا کیا کریں۔عظیم دعائیں مانگا کریں، تمام دنیا کی اصلاح کی دعائیں کریں، یہ دعا کریں کہ آپ کو خدا کی توفیق ملے اس تمام علاقے کو اسلام کے لئے فتح کرنے والے ہوں ، بہت بڑے بڑے بول ہیں لیکن جس ذات سے دعا کر رہے ہیں وہ ذات بھی تو بہت بڑی ہے، اس کے متعلق آپ کا منہ یہ کہتے تھکتا نہیں کہ وہ بہت بڑی،سب سے بڑی ہے،سب سے بڑی ذات ہے، سب سے بڑی ذات ہے۔پس اس شخص کی شان کو ملحوظ رکھ کر مانگا جاتا ہے جس کے حضور آپ حاضر ہوں۔بادشاہوں کے حضور جب کوئی انسان حاضر ہوتا ہے تو ایک روٹی کا سوال تو نہیں کیا کرتا وہ تو ان کی حیثیت دیکھ کر،