خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد ۶ 400 خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۸۷ء پھل لگا ہے بلکہ ہر پھل کو اپنے رب کی طرف سے ایک تحفہ سمجھتے ہیں ، ایک عنایت سمجھتے ہیں اور ہے بھی یہی بات ور نہ ہم کیا اور ہماری کوششیں کیا ؟ جس عظیم قوموں سے ہم ٹکرائے ہیں اسلام کے نمائندہ بن کر وہ تو پہاڑوں کی طرح بلند تر ہیں۔حیرت انگیز طاقتیں انہوں نے حاصل کر لی ہیں: ذہانت میں علم کی گہرائی کے لحاظ سے، محنت کے لحاظ سے، ان عادات کے لحاظ سے جو قوموں کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں یہ بہت زیادہ ہم سے آگے بڑھ چکے ہیں۔اس لئے ان سب مشکلات کا ایک ہی اور صرف ایک ہی حل ہے کہ ہم اس سے رابطہ کر لیں جو سب سے بلند تر ہے جس سے ہم ہر روز ، مدتوں، بار بار یہ کہتے ہیں کہ اللہ اکبر، اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔پس ان کی بڑائی کا ایک ہی علاج ہے کہ اپنی ذات کو اپنے رب کی عظمت عطا کریں اور یہ عظمت تبھی عطا ہو سکتی ہے جب آپ اپنے رب سے تعلق جوڑیں گے، جب ہر روز اس سے عظمتیں مانگیں گے، ہر روز اس کی تکبیر دل کی گہرائیوں سے بلند کریں گے تا کہ یہ آسمان کے کنگروں تک پہنچے اور آسمان کی رفعتیں اس کے نتیجے میں حاصل کریں گے۔پس دعا ہی ہے جس کے ذریعے سارے کام بنے ہیں۔آپ عادت ڈالیں ، عادت ڈال کے دیکھیں تو سہی! آپ میں سے وہ لوگ جو سوقسم کی کمزوریوں میں مبتلا ہیں کوشش کرنے کے باوجود ارادوں کے باوجود بھی نجات نہیں پاسکتے ، وہ دعائیں کریں۔دعاؤں سے دو قسم کے فائدہ ان کو حاصل ہوں گے ایک تو یہ کہ رفتہ رفتہ وہ کمزوریاں رفع ہونا شروع ہو جائیں گی اور دوسرے یہ کہ ان کمزوریوں کے دوران بھی خدا کے غضب کی نظر نہیں پڑے گی بلکہ رحم کی نظر پڑے گی۔کیونکہ بسا اوقات کمزوریاں دور کرنے کا عرصہ ایک لمبا وقت چاہتا ہے، کمزوریاں دور کرنے کا جو جہاد ہے وہ ایک لمبا وقت چاہتا ہے اس لئے ایک لمحے کے اندر تو ہر ایک انسان کی ہر کمزوری دور نہیں ہوسکتی۔پس دعا کے نتیجے میں یہ فیض حاصل ہوتا ہے کہ وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ( آل عمران : ۱۹۴) کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے اور دعائیں کرنے والے کو خدا وفات نہیں دیتا جب تک اسے نیکوں میں نہ شمار کر لے۔پس ہر روز کا جو خطرہ اپنی بدیوں کی طرف سے لاحق ہوتا ہے، ہر روز جو ہلاکت کی موت کا خطرہ انسان کو در پیش ہوتا ہے دعا کے نتیجے میں اس خطرے سے نجات مل جاتی ہے۔اس لئے بہت ہی