خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 378 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 378

خطبات طاہر جلد ۶ 378 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۸۷ء اندر بھی یہ احساس پیدا ہو گا کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک فعال حصہ ہیں جماعت کا اور ہم کوئی جرم نہیں کر رہے۔اس کے نتیجے میں نئی نیکیوں کی توفیق ملے گی۔ابھی تک میں سمجھتا ہوں کہ ایک حصہ ایسا موجود ہے جماعت میں جس نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی حالانکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایسی زندگی گزارنا کہ توقع ہے کہ وہ ایک شرح کے مطابق چندہ ادا کریں اور از خود نہ ادا کر رہے ہوں۔یہ ایک قسم کی مجرمانہ ہی زندگی ہے، تقویٰ کے اعلیٰ معیار کے مطابق نہیں ہے لیکن اجازت لے کر وہی فعل کرنا اس کے نتیجے میں دل میں ایک شرح صدر پیدا ہوتا ہے، انسان کے اندر ایک خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور باقی نیکیوں میں حصہ لینے کے لئے حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔اس لئے ان دو حالتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے اس لئے جب میں یہ تحریک کرتا ہوں اور یاد دہانی کراتا ہوں تو اس کے پیچھے حکمت ہے اس کو سمجھیں اور ابھی تک اگر آپ میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے یہ فعل نہیں کیا تو اب کر کے اپنے نفس کو مطمئن کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں۔ایک بات کی وضاحت میں کرنی چاہتا تھا خواہ مخواہ اپنے ذمے جمعہ میں بولنے کا گناہ لیا۔میں یہی بات کہنی چاہتا تھا جس کی طرف آپ نے مجھے ابھی توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔اس بات کی میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ جو دوست مجھے یہ لکھتے ہیں کہ کلیہ چندہ معاف کر دیا جائے میں انہیں ہمیشہ یہ جواب لکھتا ہوں کہ مجھے اس بات کی توفیق ہی نہیں ہے کہ میں آپ کو کلیہ آزادی دوں کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ آپ کی جان پر یہ سخت ظلم ہوگا اور دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان کے خلاف کوئی فیصلہ کرنے کا کسی خلیفہ کو اختیارہی نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ، جب شرحیں مقرر نہیں ہو ئیں تھیں کہ جو بھی مجھ سے عہد بیعت باندھتا ہے وہ اپنے اوپر کچھ نہ کچھ ضرور فرض کرلے اپنی توفیق کے مطابق۔اس لئے جب میں نے کھلی اجازت دی تو وہ فعل میرا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے تابع تھا اور آپ کی ہدایت کے نیچے تھا۔میں نے ایک بعد کی مقرر کردہ شرح سے استثناء کیا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم سے استثناء نہیں کیا جو مامور وقت ہیں۔اس لئے میں کبھی بھی کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتا نہ دیتا ہوں کہ وہ کلیہ مستی ہے۔دوسرے میں یہ بیان کیا کرتا ہوں عموماً خط کے ذریعے اب میں جماعت کو بالعموم بتا دیتا